Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

روایت کو توڑنا

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

سے رغبت ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے ( از هد فی الدنيا يحبك الله واهد فيما عند الناس يحبك الناس) دنیا سے بے رغبتی آدمی کو ذہنی یکسوئی عطا کرتی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ حقائق مادی سے اوپر اٹھ کر حقائق معنوی کو اپنی ساری توجہات کا مرکز بنا سکے۔ یکسوئی کا یہ عمل اس کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔ وہ مسلسل مادیت سے روحانیت کی طرف سفر کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی شخصیت مکمل طور پر ایک روحانی شخصیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دنیا سے بے رغبتی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایک ارتقا یافتہ شخصیت بن سکے۔ یہی ارتقا یافتہ شخصیت وہ چیز ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کر دیتی ہے۔ آدمی عابد رہتے ہوئے اپنے مزاج اور اپنے شاکل کے اعتبار سے خدا کے ہم سطح ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس کو خدا کی قربت میں جگہ ملے، وہ خدا کا پسندیدہ بندہ بن جائے۔ جب آدمی کے دل میں خدا کی محبت بیٹھتی ہے تو فطری طور پر وہ غیر متعلق چیزوں سے دور ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام زہد ہے۔ یہ زہد ہی خدا سے قریب ہونے کی قیمت ہے ۔ زہد نہیں تو خدا کی قربت بھی نہیں۔ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے رغبت ہونا یوں آدمی کو لوگوں کے لیے قابل قدر اور قابل محبت بنا دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا آدمی لوگوں کی نظر میں ایک بلند انسان بن جاتا ہے۔ لوگوں کی چیزوں میں رغبت رکھنے والا آدمی لوگوں کو اپنے برابر کا انسان دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کے حق میں لوگوں کے اندر قدر دانی کا اعلیٰ جذبہ نہیں جاگتا۔ اس کے برعکس جو آدمی لوگوں کو بے نیاز دکھائی دے اس کو وہ اپنے سے اونچا سمجھیں گے۔ خدا کا محبوب بننے کا راز خدا کا طالب بننا ہے، اور لوگوں کا محبوب بننے کا راز لوگوں سے بے نیاز ہو جانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page