Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

تسبیح خواتین

Urdu book, p. 306

By Maulana Wahiduddin Khan

تسبیح خواتین روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو خاص طور پر ایک تسبیح بتائی۔ یہ عام طور پر تسبیح فاطمہ کے نام سے مشہور ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ۳۳ بار کہو: سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ پھر ۳۳ بار کہو: الحمد للہ، الحمد للہ۔ پھر ۳۴ بار کہو: اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ یہ سب ملا کر ایک سو بار ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس میں تمھارے لیے بہت زیادہ ثواب ہے۔ اس تسبیح کو تسبیح فاطمہ کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ ہی کو اس کی تلقین فرمائی تھی۔ لیکن غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ آپؐ نے حضرت فاطمہ کے واسطے سے امت کی تمام خواتین کو ذکر کا یہ قیمتی تحفہ عطا فرمایا ہے۔ بظاہر وہ تسبیح فاطمہ ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ تسبیح خواتین ہے۔ اصل یہ ہے کہ فطری طور پر عورتوں کا ایک خاص مزاج ہے۔ اس مزاج کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں جب اکٹھا ہوتی ہیں تو وہ فوراً ایک دوسرے کی باتوں کا غیر ضروری چرچا کرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ کسی نہ کسی کے بارے میں جاو بے جا باتیں ان کا موضوع گفتگو بن جاتی ہیں۔ یہ عورتوں کی ایک عام کمزوری ہے جس سے بہت کم عورتیں اپنے کو محفوظ کر پاتی ہیں۔ مذکورہ تسبیح عورتوں کو اس گناہ سے بچانے کی ایک تدبیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح خواتین کو ایک اچھی مشغولیت دے دی ہے جس میں اپنے آپ کو مصروف کر کے وہ ثواب بھی حاصل کریں اور آخرت کے نقصان سے بھی بچ جائیں۔ خاص طور پر زیادہ عمر کی عورتوں کے لیے وہ اور بھی زیادہ اہم ہے۔ ایک عورت کی عمر جب بڑھتی ہے تو اس کے بعد اس کی عملی مصروفیت اسی نسبت سے کم ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے خالی وقت کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے بارے میں کیا کچھ نہ بولے یا وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page