اجنبی دین
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ انسپکٹر نے ریسٹوران کی جانچ کی تو اس نے اس کے ایک کمرے میں چوہے کی بیٹ (rat droppings) پائیں۔ اخبار کے ہیڈلائن رائٹر نے اس خبر کی سرخی پر لگادی کہ جانچ کرنے والے ہوٹل میں چوہے پائے۔ یعنی ریسٹوران میں صرف چوہے کی کچھ بیٹ ملی تھی مگر سرخی میں یہ لکھ دیا کہ ریسٹوران میں زندہ چوہے پائے گئے۔ یہ ۱۹۹۲ء کا واقعہ ہے۔ مذکورہ اخبار نے اگرچہ اگلے دن اس کی معذرت چھاپ دی تھی مگر ریسٹوران کا مالک اس معاملہ کو عدالت میں لے گیا۔ اس نے عدالت سے کہا کہ اس غلط سرخی (inaccurate headline) کی وجہ سے میرے ہوٹل کی بدنامی ہوئی اور مجھے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ لمبی سماعت کے بعد عدالت نے ریسٹوران کے دعوی کو قبول کرتے ہوئے اخبار کے اوپر تقریباً تین کروڑ روپیہ ($ 985,000) کا جرمانہ عائد کیا جو اس کو ریسٹوران کے مالک کو ادا کرنا ہوگا۔ (دی پائینیر ۲۴ جون ۱۹۹۳ء) ہندوستان جیسے ملکوں میں تو اس طرح کی زیادتیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ حال ہے کہ اگر ایک آدمی کسی کے خلاف ایسی زیادتی کر بیٹھے تو مظلوم آدمی خوش ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ عدالت سے رجوع کر کے وہ اس کا بھر پور معاوضہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو اپنے عقیدہ کی رو سے اس وقت خوش ہونا چاہیے جب کہ کوئی شخص ان کے خلاف ظلم و زیادتی کا کوئی واقعہ کرے ۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر ایک شخص کسی کو جانی و مالی نقصان پہنچائے، اس کی جائیداد غصب کرلے، اس کے اوپر خلاف واقعہ الزام لگائے، اس کی کردار کشی کرے تو آخرت کی عدالت میں ظالم کو بلایا جائے گا اور اس کی نیکیاں اس سے لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیوں کی مقدار کم ہو تو مظلوم کے گناہوں کو لے کر اس کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔ مظلوم ہلکا پھلکا ہو کر جنت میں جائے گا اور ظالم اپنے ساتھ دوسروں کے گناہوں کے بوجھ سے لدا ہوا جہنم میں داخل ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader