ذکر و فکر
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
ذکر و فکر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی یاد سب سے بڑی چیز ہے (ولذکر اللہ اکبر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک گھڑی کا سوچنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے (تفکر ساعة خير من عبادة سنة) ذکر و فکر سے متعلق جو آیتیں اور حدیثیں ہیں ، ان کا ایک مطلب خالص روحانی ہے۔ یعنی اللہ کی صفتوں کو یاد کرنا اور ان سے ان جذبات و کیفیات کا دل میں پیدا ہونا جن کو قرآن میں خشوع ، تضرع ، اخبات ، انابت وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیفیت دین کا اصل مطلوب ہے اور یہی خود عبادت کا بھی خلاصہ ہے۔ ان آیتوں اور حدیثوں سے ایک اور بہت اہم بات معلوم ہوتی ہے۔ یہ علم کی فوقیت ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی عمل (Physical activity) کے مقابلے میں ذہنی عمل کی اہمیت زیادہ ہے۔ جسم کی حرکت سے آدمی جو کام کرتا ہے، اس سے بہت زیادہ قیمت اس کام کی ہے جو وہ دماغ کی حرکت کے ذریعہ انجام دیتا ہے۔ ایک گھڑی کا دماغی کام ایک سال کے جسمانی کام کے برابر ہے۔ ایک مزدور بھی محنت کرتا ہے اور ایک انجینئر بھی ۔ مگر مزدور کو جو معاوضہ دیا جاتا ہے، اس سے بہت زیادہ معاوضہ وہ ہے جو انجینئر کو ملتا ہے۔ اسی مثال سے جسم اور ذہن کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جسمانی محنت اگر ہتھوڑا چلاتی ہے تو دماغی محنت مشین چلاتی ہے۔ جسمانی محنت پاؤں سے سفر کرتی ہے تو دماغی محنت کار اور ہوائی جہاز کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ جسمانی محنت ظاہر کو جانتی ہے تو دماغی محنت حقیقت کا پتہ کر لیتی ہے۔ جسمانی محنت اگر تلوار سے لڑتی ہے تو دماغی محنت لڑائی کے بغیر جنگ جیت لیتی ہے۔ جسمانی محنت اگر آدمی کو دکھائی دینے والی دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader