حدیث کا مطالعہ
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ واقعہ واضح طور پر تالیف قلب کا واقعہ ہے۔ ایک حاکم جس سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے تو تلخی پیدا ہوگی اور بہتر تعلق قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اس کا ہدیہ قبول کرنا اور اپنی طرف سے اس کو ہدیہ پیش کرنا قربت اور انس کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غیر مسلم حاکموں سے ان کا تحفہ قبول فرمایا۔ سرداروں اور حکمرانوں سے ہدیہ قبول کرنے کے متعدد واقعات حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ ایک انسان جو ایک مشن کا علم بردار ہو وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ لوگوں کے ہدیے اور تحفے قبول نہ کرے۔ ہدیہ کا لین دین سے مشن کی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں اور ہدیہ یا کو لینے سے انکار کرنا مشن کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اس لئے اسلام میں یہ پسندیدہ بات نہیں کہ ہدیہ یا کے لینے سے انکار کر دیا جائے۔ اب دوسری نوعیت کی مثال لیجئے۔ سنن ابی داؤد (۳ / ۱۷) اور بعض دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مشرک عیاض بن حمار المجاشعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا : فانی نھیت عن زبد المشرکین (تو مجھے مشرکوں کا عطیہ لینے سے منع کیا گیا ہے) فتح الباری ۵ / ۲۷۳ واقعات بتاتے ہیں کہ یہ انکار حقیقۃ کوئی انکار نہ تھا بلکہ وہ شفقت کا ایک معاملہ تھا۔ اپنی زبان میں ہم اس کو ایک قسم کا ترغیبی انکار کہہ سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ عیاض بن حمار آپ کی تحریک توحید سے متاثر تھے اور ذاتی طور پر آپ کے عقیدت مند بن چکے تھے۔ مگر ابھی تک انھوں نے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ آپ نے مذکورہ الفاظ میں ہدیہ کا انکار کر کے ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ حسب توقع اس کا مفید اثر ہوا اور جلد ہی انھوں نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔ چنانچہ اب ان کو اسلام کی تاریخ میں عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے (حيات الصحابہ ۲ / ۴۲۵)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader