حدیث کا مطالعہ
Urdu book, p. 314
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ وسلم قال: لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ علیہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے ( رواه البخاری ومسلم ) لیے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ایک مسلمان کو دوسرے انسانوں کے لیے کیسا ہونا چاہیے، اس حدیث میں اس کی نہایت سادہ پہچان بتائی گئی ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی وہی پسند کرنے لگے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ کسی آدمی کے ساتھ بدزبانی کی جائے تو اس کو برا لگے گا اور اگر اس کے ساتھ نرم بول بولے جائیں تو اس کو اچھا معلوم ہوگا۔ اسی ذاتی تجربہ کے مطابق وہ دوسروں پر بھی عمل کرے۔ وہ دوسروں کے ساتھ تلخ کلامی نہ کرے، وہ ہمیشہ ان کے ساتھ نرم انداز میں بات کرے۔ کسی کو اس کا جائز حق نہ دیا جائے تو وہ اس کو سخت ناپسند کرے گا۔ آدمی یہی معاملہ دوسروں کے ساتھ کرنے لگے۔ اس کے اوپر دوسروں کا جو حق ہے اس کو وہ ادا کرے، وہ دوسروں کی حق تلفی سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچائے۔ کسی کے ساتھ وعدہ کیا جائے اور پھر اس کو پورا نہ کیا جائے تو اس کو بے حد تکلیف پہنچے گی۔ آدمی اس سے دوسروں کے بارہ میں سبق لے لے۔ وہ کسی سے وعدہ کرے تو فوراً اس کو پورا کرے، وہ کسی کے ساتھ وعدہ خلافی کا سلوک نہ کرے۔ کسی کو نقصان پہنچایا جائے تو اس کو فوراً غصہ آجاتا ہے۔ اس ذاتی تجربہ سے وہ دوسروں کے بارہ میں جان لے۔ وہ کبھی دوسروں کو نقصان پہنچنے نہ دے، وہ ہمیشہ یہ کوشش کرے کہ اس کی ذات دوسروں کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔ مومن ایک حساس انسان ہوتا ہے۔ اس کی حساسیت اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ دوسروں کے حق میں ویسا ہی بنے جیسا وہ دوسروں کو اپنے حق میں دیکھنا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader