Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

عمل کے درجے ہیں

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل کے درجے ہیں ابو امامہ صدیقی بن عَجْلان الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دو قطرول اور دو نشانات سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں۔ آنسو کا قطرہ جو اللہ کے ڈر سے نکلا ہو اور خون کا قطرہ جو اللہ کی راہ میں ہے۔ اور دو نشانات میں سے ایک نشان وہ ہے جو اللہ کی راہ میں لگے اور دوسرا نشان وہ ہے جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فرض کی ادائیگی میں پڑا ہو (لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ - قَطْرَةُ دُمُوعٍ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَقَطْرَةُ دَمٍ تُهْرَاقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - وَأَمَّا الْأَثَرَانِ فَأَثَرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَثَرُ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى، رواه الترمذی) ہر عمل کے درجے ہوتے ہیں۔ آدمی کسی عمل میں جتنا زیادہ اپنے آپ کو شامل کرے، اس کو کرنے کے لئے اسے جتنا زیادہ مشقت برداشت کرنی پڑے اتنا ہی اس عمل کا درجہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کوئی عمل محض اپنے ظاہر کے اعتبار سے خدا کے یہاں درجہ والا نہیں بنتا بلکہ اس نفسیاتی حالت کے اعتبار سے بنتا ہے جس کے تحت کسی نے اس عمل کو انجام دیا ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ انسان کے عمل کی نیکی بڑھتی ہے۔ یہاں تک کہ دس گنا سے سات سو گنا تک پہنچ جاتی ہے (كلُ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ ، مسلم) یہی معاملہ مذکورہ چیزوں کا بھی ہے۔ خواہ آنسو یا خون کا قطرہ ہو یا کوئی عبادتی نشان ، اس کے بھی درجات ہیں۔ اور درجات کے لحاظ سے ان کا ثواب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایک آنسو وہ ہے جو جلسہ عام میں کسی کی آنکھ سے نکلتا ہے۔ یقیناً اس کا بھی ثواب ہے۔ مگر وہ آنسو جو تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے آنکھوں سے ٹپک پڑے اس کا درجہ اور بھی زیادہ ہے۔ ایک آنسو وہ ہے جو مشکلات و مصائب کے وقت نکلتا ہے۔ اس پر بھی آدمی کو ثواب ملے گا مگر اس آنسو کا درجہ اور بھی زیادہ بڑا ہے جو کامیابیوں کو دیکھ کر رازق حقیقی کے لئے نکل پڑے۔ ایک آنسو وہ ہے جو اپنے مسائل و معاملات کو سوچ کر نکلتا ہے۔ اس کا بھی ثواب ہے۔ مگر ان آنسوؤں کے درجہ کا کون اندازہ کر سکتا ہے جو اللہ کی دنیا میں اللہ کی کارگیری کو دیکھ کر ایک بندہ کی آنکھ سے بہہ پڑتے ہیں۔ یہی معاملہ ”خون" کا ہے۔ ایک خون کا قطرہ وہ ہے جو فوری مقابلہ کے وقت ٹوٹ کھا کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page