Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

عمل کے درجے ہیں

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

راہ میں برسہا برس تک مشقتیں اٹھاتے ہوئے اپنے خون کو خشک کرتا ہے تو اس کا ثواب اور بھی زیادہ ہے۔ ظالموں کا ایک گروہ آدمی کے جان و مال پر حملہ کرتا ہے اور وہ اس کے دفاع میں اپنے جسم کو زخمی کر لیتا ہے یا شہید ہو جاتا ہے تو اس خون بہانے کا بھی ثواب ہے۔ مگر جب اللہ کا ایک بندہ یہ سوچ کر تڑپ اٹھتا ہے کہ لوگ جہنم کی طرف چلے جا رہے ہیں اور لوگوں کو جہنم سے بچانے کی جدوجہد میں وہ اپنے جسم کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ دیتا ہے تو یہ اتنا بڑا عمل ہوتا ہے کہ اس کی لڑائی کو ناپنے کے لئے سارے گناہ چھوٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو تولنے کے لئے سارے ترازو ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔

یہی معاملہ ”نشان“ کا بھی ہے۔ ایک نشان یہ ہے کہ ایک جنگ پیش آئی۔ آدمی اس میں کود پڑا اور لڑائی کے نتیجہ میں اس کے جسم پر کٹنے یا ختم لگنے کا کوئی مستقل نشان پڑ گیا۔ یا ایک شخص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے اور سجدہ کی کثرت سے اس کی پیشانی پر نشان پڑ جاتا ہے۔ یقیناً ایسے نشانات کا بھی خدا کے یہاں ثواب ہے۔ مگر ایک شخص وہ ہے جو دیکھتا ہے کہ خدا کی دنیا میں بے شمار ہنگامے جاری ہیں لیکن خدا کے دین کی گواہی نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ بیٹھا نہ خدا کا گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے دوست اور رشتہ دار اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، اس کے فائدوں اور مصلحتوں کا ڈھانچہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کو بے عزت کیا جاتا ہے، اس کو زخم پہنچائے جاتے ہیں، اس کی معاشیات کو اجاڑا جاتا ہے۔ اذیتوں پر صبر کرتے کرتے اس کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔ اس کا سکون غارت ہو جاتا ہے اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی دنیا ویران ہو جاتی ہے۔ وہ جیتے جی قبر میں دفن ہو جاتا ہے۔ پھر بھی وہ اللہ کے راستہ کو نہیں چھوڑتا، پھر بھی وہ اللہ کی گواہی کے مقام سے نہیں ہٹتا۔

ایسے شخص پر بھی "نشانات" پڑتے ہیں۔ اس کی جوانی قبل از وقت بڑھاپے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کا شاداب جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کا پھول سا چہرہ گرد و غبار میں مٹ جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں آنسو بہاتے بہاتے بے رونق ہو جاتی ہیں۔ وہ دنیا پرستوں کی نظر میں ایک برباد شدہ انسان کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ زخم اور یہ نشانات مذکورہ زخموں اور نشانات سے مختلف ہوتے ہیں، بہت سے لوگوں کو وہ دکھائی بھی نہیں دیتے۔ مگر اللہ کی نظر میں ان کا درجہ اتنا زیادہ ہے کہ سارے زمین و آسمان اور انھیں کے قدر ایک اور زمین و آسمان بھی ان کی قیمت نہیں ہو سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page