تکرار کی حکمت
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
تکرار کی حکمت قرآن میں ہے کہ اے مومنو، اللہ کا ذکر کثیر کرو (الاحزاب (۴)، حدیث میں ان لوگوں کی فضیلت آئی ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں (مشکوۃ المصابیح ۶۹۸/۲)، بہت سے الفاظ یا کلمات کے بارے میں عدد کی صراحت کے ساتھ اس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من قال سبحان الله وبحمده في يوم مأۃ جو شخص دن میں سو بار کہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ مرة حطت خطایاه وان كانت مثل تو اس کی سب خطائیں مٹ جائیں گی خواہ وہ سمندر زبد البحر (متفق علیه) کے جھاگ کے برابر ہوں۔ الفاظ یا کلمات کی اس تکرار میں اصل اہمیت تکرار کی نہیں، بلکہ نتیجہ تکرار کی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سات یا دس یا سو کی گنتی میں کوئی پر اسرار خاصیت چھپی ہوئی ہے ۔ اور اگر اس مقرر عدد کے ساتھ اس کو دہراد یجئے تو محض عدد پورا ہونے کی بنا پر وہ عظیم ثواب کا باعث بن جائے گا۔ اس کا مطلب در اصل یہ ہے کہ کسی خاص کلمہ کو بار بار کہنے سے اس کے موافق کیفیت ابھرے گی۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر روحانیت اور ربانیت پیدا کرے گی۔ پھر اس حالت میں وہ جو دعا یا عبادت کرے گا وہ اتنی خالص ہوگی کہ فرشتے اس کو لینے کے لئے دوڑیں گے۔ ایسا عمل اپنی کیفی خصوصیات کی بنا پر سیدھے خدا تک پہنچ جائے گا اور مقبول بارگاہ ہوگا۔ جب آدمی دیر تک قرآن کی تلاوت کرے۔ وہ کثرت سے حمد وتسبیح کے کلمات کو اپنی زبان سے دہرائے۔ وہ فرض نمازوں کے علاوہ مزید سنت ونوافل میں مشغول ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے گرد ایک روحانی ماحول بنتا ہے۔ اس کا ذہن دینی رخ پر یکسو ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر ربانی کیفیات ابھرتی ہیں۔ یہی کیفیت یا روحانیت دین کا اصل مطلوب ہے۔ اس کیفیت کے ساتھ جو زندگی گزرے وہی سچے مومن کی زندگی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ابدی جنتوں میں داخل کیا جائے ۔ یہ فائدہ تکرار کے کیفی نتیجہ کا ہے نہ کہ مجرد تکرار کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader