تکرار کی حکمت
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
کر آدمی خود اپنی پاکی کا اہتمام کرتا ہے۔ ایسا کر کے آدمی اپنے دل سے مال کی محبت کو نکالتا ہے۔ وہ اس یقین کو تازہ کرتا ہے کہ اس کے پاس جو مال ہے وہ خدا کی امانت ہے نہ کہ اس کی ذاتی ملکیت۔ اس طرح وہ اپنے اندر اس احساس کو جگاتا ہے کہ اس کے اوپر دوسروں کا حق ہے۔ زکوٰۃ یا صدقہ اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی انسان کو دے مگر وہ اس کا بدلہ خدا سے پانے کی امید رکھے۔ وہ ایک طرزِ طور پر دوسرے انسانوں کا خیر خواہ اور مدد گار بنے۔ وہ اپنی زندگی میں ایسے لوگوں تک کا حق سمجھے جن سے اسے کچھ پانے کی امید نہ ہو۔ زکوٰۃ دینا گویا کہ دوسروں کے لیے نفع بخش بننا ہے۔ اس طرح زکوٰۃ آدمی کے لیے اس یاد دہانی کا ذریعہ ہے کہ تم کو اس دنیا میں مانگنے والا نہیں بننا ہے بلکہ دینے والا بننا ہے۔ تم کو اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہے۔ تمہیں اپنے آپ کو اس قابل بنانا ہے کہ تمہارا ہاتھ ہمیشہ اوپر رہے، وہ کبھی نیچے نہ ہونے پائے۔ زکوٰۃ گویا ایک قسم کی عملی دعا ہے۔ زکوٰۃ دینے والا اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ خدا سے پائے۔ وہ اس لیے دوسروں کے کام آتا ہے تاکہ خدا اس کے کام بنا دے۔ وہ اس لیے ایک طرز طور پر مدد پہنچاتا ہے تاکہ خدا بھی اس کو ایک طرز طور پر اپنی رحمت اور بخشش کے سایہ میں لے لے۔ اس دنیا میں بظاہر ایک آدمی بے مال ہے اور دوسرا آدمی صاحبِ مال۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر آدمی محتاج ہے۔ کیوں کہ کسی کا مال بھی ذاتی مال نہیں۔ ہر آدمی کا مال خدا کا عطیہ ہے۔ مال والا ایک آدمی جب کسی بے مال والے کو کچھ دیتا ہے تو اس عمل کے ذریعہ وہ خود اپنی ہی حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے۔ وہ گویا زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ میں بھی وہی ہوں جو تم ہو۔ اگر خدا چاہے تو کل کے دن وہ میرا حال تمہارے جیسا کر دے اور تمہارا احال میرے جیسا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader