Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

قلب سلیم

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

قلب سلیم قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں آدمی کو جو چیز نفع دے گی، وہ صرف قلب سلیم (الشعراء ۸۹) ہے۔ وہی لوگ جنت میں داخل کیے جائیں گے جو قلب سلیم لے کر وہاں پہنچیں۔ "قلب سلیم" کی تشریح مختلف الفاظ میں کی گئی ہے مگر سب کا مدعا ایک ہے۔ یہاں ہم تفسیر ابن کثیر کا متعلقہ حصہ نقل کرتے ہیں: (الا من اتى الله بقلب سليم) أى سالم من مگر وہ قلب سلیم لے کر آیا، یعنی گندگی اور شرک الدنس والشرك - قال ابن سيرين القلب سے پاک دل۔ ابن سیرین نے کہا کہ قلب کا سلیم ہونا السليم ان يعلم ان الله حق وان الساعة آتية یہ ہے کہ وہ جانے کہ اللہ حق ہے اور قیامت آنے لا ريب فيها وان الله يبعث من في القبور - والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اور اللہ ضرور وقال ابن عباس (الا من اتى الله بقلب سليم) ان کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔ ابن عباس نے القلب السليم ان يشهد ان لا اله الا الله - کہا کہ قلب سلیم یہ ہے کہ وہ گواہی دے کہ اللہ کے وقال مجاهد والحسن وغيرهما بقلب سوا کوئی الٰہ نہیں۔ مجاہد حسن اور دوسروں نے کہا سليم) يعنى من الشرك - وقال سعيد بن کہ قلب سلیم کا مطلب شرک سے پاک دل ہے۔ سعید المسيب (القلب السليم هو القلب الصحيح بن مسیب نے کہا کہ قلب سلیم سے مراد قلب صحیح ہے وهو قلب المؤمن لأن قلب الكافر اور وہ مومن کا دل ہے، کیونکہ کافر اور منافق کا والمنافق مريض - قال ابو عثمان دل مریض ہوتا ہے۔ ابوعثمان نیساپوری نے کہا کہ النيسابوري هو القلب السالم من اس سے مراد وہ دل ہے جو بدعت سے پاک البدعة المطمئن إلى السنة (۳۳۹/۳) اور سنت پر مطمئن ہو۔ جنت میں داخلہ کا معیار ظاہری اعمال کی مقدار نہیں ہے بلکہ آدمی کی اندرونی کیفیت ہے۔ قیامت میں اصل چیز جو دیکھی جائے گی وہ یہ کہ آدمی کس قسم کی شخصیت لے کر وہاں پہنچا ہے۔ جو لوگ ربانی شخصیت لے کر وہاں پہنچیں گے وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ یہ وہ لوگ جو اپنے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page