ایک آیت
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آیت قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــ اور مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے ، الا یہ کہ غلطی سے ایسا ہو جائے (النساء: ۹۲) پھر قاتل کا حکم بتانے کے بعد کہا گیا کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے، اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے (النساء: ۹۳) ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں : یقول تعالی لیس لمؤمن ان یقتل اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مومن کے لیے سزاوار نہیں اخاہ المؤمن بوجه من الوجوہ کہ وہ اپنے بھائی مومن کو قتل کرے۔ جیسا کہ كما ثبت فی الصحیحین عن ابن صحیحین میں حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مسلم جو وسلم قال : لا یحل دم امرئ مسلم گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور يشهد ان لا اله الا اللہ وانی میں اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون جائز نہیں۔ رسول اللہ الا باحدی ثلاث ۔ الا یہ کہ ان میں سے ایک کی جان مارنا، شادی شدہ النفس بالنفس والثیب الزانی زانی اور وہ شخص جو دین کو چھوڑ کر جماعت سے والتارک لدینه المفارق للجماعة۔ الگ ہو جائے (حدیث) پھر جب ان تین میں سے ثم اذا وقع شیئی من هذه الثلاث کوئی واقعہ ہو تب بھی عام لوگوں میں سے کسی شخص فلیس لاحد من آحاد الرعیة کے لیے درست نہیں کہ وہ مجرم کو قتل کر دے۔ ان یقتلہ وانما ذلک الی الامام اس حکم کا نفاذ صرف امام یا اس کے نائب او نائبه (۵۳۳) پر ہے۔ واضح ہو کہ یہاں "امام" سے مراد امام خمینی جیسا کوئی مذہبی پیشوا نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد حاكم سلطنت ہے۔ یہ حاکم سلطنت یا اس کے مقرر کردہ با اختیار شخص کا حق ہے۔ نہ کہ کسی مفتی یا امام یا کسی خود ساختہ مجاہد کا حق۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader