Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

قرآن میں تفکر

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں تفکر قرآن میں کہا گیا ہے کہ ــــــ بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں ، جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں ، اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے ، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ (آل عمران ۱۹۱ - ۱۹۰) تمام بہترین باتیں آدمی کو غور وفکر کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔ ایک عرب شاعر نے نہایت صحیح کہا کہ جب آدمی کے اندر فکر اور سوچ کی کیفیت ہوتی ہے تو ہر چیز سے اس کو نصیحت حاصل ہوتی ہے : اذا المرء كانت له فكرة ففي كل شئ له عبرة اس آیت کے سلسلہ میں مختلف حدیثیں منقول ہوئی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ ان آیتوں کو پڑھیں ان کو چاہیے کہ وہ اس پر غور کریں (فلیتفكروا فيها) آپ نے فرمایا کہ اس شخص کی خرابی ہے جس نے ان آیتوں کو پڑھا مگر اس پر غور نہیں کیا۔ (رویل لمن قرأ هذه الآيات ثم لم يتفكر فيها) ۴۱ امام الاوزاعی سے پوچھا گیا کہ ان آیات میں تفکر سے کیا مراد ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ آدمی ان کو پڑھے اور وہ ان کو سمجھے (قیل للأوزاعي ما غاية التفكر فيهن۔ قال : يقرؤهن وهو يعقلهن) ۴۴۱/۱ عامر بن عبدقیس کہتے ہیں کہ میں نے ایک سے زیادہ اصحاب رسول کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایمان کی روشنی غور وفکر ہے (ان ضیاء الایمان المتفكر) حضرت عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرنا سب سے اعلیٰ عبادت ہے (والفکرة في نعم الله افضل العبادة) بشر بن الحارث الحافی نے کہا کہ اگر لوگ اللہ کی عظمت میں غور کریں تو وہ کبھی گناہ نہ کریں (لو تفكر الناس في عظمة الله تعالى لما عصوه)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page