Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

غلط توجیہہ

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے۔ اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جائو گے۔ (الانبیاء ۳۵) قرآن کی یہ آیت انسانی زندگی کے بارہ میں خدا کے منصوبہ کو بتاتی ہے۔ اس دنیا میں کسی کو راحت ملتی ہے اور کسی کو مصیبت۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پسندیدہ صورتِ حال سے سابقہ پیش آتا ہے اور کبھی ناپسندیدہ صورت حال سے۔ مگر ان سب کا مقصد صرف ایک ہے، اور وہ آزمائش ہے۔ خدا کسی کو ایک طرح کے حالات میں رکھ کر آزماتا ہے اور کسی کو دوسری طرح کے حالات میں رکھ کر۔ یہاں اصل چیز یہ حالات نہیں ہیں، یہاں اصل چیز یہ ہے کہ آدمی کو جو حالات ملے ان میں اس نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ اس دنیا میں کسی کو عزت اور کامیابی دی جاتی ہے تو وہ اس کے لیے انعام نہیں ہوتا وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ آدمی عزت اور کامیابی پا کر گھمنڈ میں مبتلا ہوایا اس نے شکر اور تواضع کا رویہ اختیار کیا۔ اسی طرح جب کسی شخص کو بظاہر پستی اور ناکامی میں ڈالا جاتا ہے تو یہ اس کے لیے سزا نہیں ہوتی۔ وہ اس لیے ہوتی ہے کہ خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ پستی اور ناکامی میں مبتلا ہو کر اس نے صبر کا رویہ اختیار کیا یا بے صبری اور شکایت کا۔ اسی رد عمل پر آخرت میں آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جانے والا ہے۔ قرآن میں ہے کہ حضرت سلیمان کو جب اپنے حق میں بعض غیر معمولی نعمتوں کا تجربہ ہوا تو ان کی زبان سے نکلا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے جانچے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری (الاشکرام اکرض، النمل ۴۰) ایک طالب علم کو امتحان میں ۲۰ پرچے کے بجائے ۵ پرچہ دیا جائے تو وہ خوش ہوگا کہ مجھ کو حل کرنے کے لیے کم پرچہ ملا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں جس آدمی کو کم ساز و سامان ملے یا کم عہدہ دیا جائے تو اس کو شکر کرنا چاہیے کہ اس کے رب نے اس کے ساتھ آسان آزمائش کا معاملہ کیا۔ نہ یہ کہ وہ اس کمی کی بنا پر شکایت اور حسد اور مایوسی جیسے جذبات میں مبتلا ہو جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page