Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

دونوں ڈوب گئے

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں ڈوب گئے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو، ایک مثال بیان کی جاتی ہے تو تم اس کو غور سے سنو۔ تم لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، اگرچہ وہ سب کے سب اس کے لیے جمع ہو جائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس کو اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور۔ انھوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کو پہچانے کا حق ہے۔ بے شک اللہ طاقت ور ہے، غالب ہے (الحج ۷۳-۷۴) اس معاملہ کی ایک دلچسپ مثال انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (ار مارچ ۱۹۹۰) میں نظر سے گزری۔ حیدر آباد میں بدھ کی مورتی (اسٹیچو) لگانے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اس پورے منصوبے کی لاگت ۵۸ کروڑ ۵۸ لاکھ روپیہ تھی ۔ صرف مورتی کی لاگت ۸۰ لاکھ روپیہ تھی ۔ یہ مورتی نہایت اہتمام سے بنائی گئی۔ اس کا انشورنس ۳ کروڑ نے لاکھ روپیہ تھا اور تیاری کے دوران مہاراشٹر کے چیف مسٹر ڈاکٹر چنا ریڈی روزانہ اس کے معائنے کے لیے جاتے تھے۔ اس مورتی کا وزن تقریباً ۳ ٹن تھا ، اور وہ ۵۷ فٹ اونچی تھی ۔ ۱۰ مارچ ۱۹۹۰ کو بدھ کی یہ مورتی حسین ساگر جھیل کے کنارے ایک مخصوص کشتی پر رکھی گئی۔ اس کو جھیل میں آدھے کلومیٹر کا سفر طے کر کے مقررہ مقام پر پہنچنا تھا جہاں اس کو نصب کرنے کے لیے ایک مخصوص پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ اس کی تعمیر پر ۲ کروڑ ۲۲ لاکھ روپیہ کی لاگت آئی تھی ۔ مگر کشتی جب جھیل کے درمیان پہنچی تو وہ اندر پانی آجانے کی بنا پر (یا اور کسی وجہ سے) ڈوب گئی ۔ مورتی سمیت آٹھ آدمی بھی سات میٹر نیچے پانی کی تہہ میں چلے گئے ۔ انسان ایک اللہ کے سوا دوسری چیزوں کا بت بناتا ہے ، وہ ان کو مقدس سمجھتا ہے اور ان کو پوجتا ہے ۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بت (اور اسی طرح صاحباں مزار) اپنے اندر کوئی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ خود اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے ، وہ دوسرے کی حفاظت کیا کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک خدا ہے جو تمام طاقتوں کا مالک ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اسی کی پرستش کرے اور اسی سے اپنی تمام امیدیں وابستہ کرے ۔ اللہ کے سوا جو چیزیں ہیں وہ خود محتاج ہیں ، وہ دوسروں کی کیا مدد کر سکتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page