زمانہ کی قسم
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھیوں کو ستایا جاتا رہا اور مدینہ میں بھی مزید شدت کے ساتھ آپ کی مخالفت جاری رہی۔ اس سلسلہ میں اللہ کی طرف سے آپ کو واضح ضمانت دی گئی۔ ایک آیت یہ ہے : یا ایھا الرسول بلغ ما انزل اليك من اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته سے اترا ہے اس کو پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا والله يعصمك من الناس۔ ان الله تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لا يهدى القوم الكافرين لوگوں سے بچائے گا۔ اللہ یقیناً انکار کرنے والوں کو راہ نہیں دیتا۔ ( المائدہ ۶۷ ) دعوت کا کام خالص خدائی کام ہے۔ یہ اللہ کے منصوبہ کی تکمیل کے طور پر انجام دیا جاتا ہے (الناره ۱۶۵) اس لیے یہ بالکل فطری ہے کہ اس معاملہ میں دامی کو اللہ کی مدد حاصل ہو۔ اس مشکل کام میں اللہ کی مدد کا نہ آنا تعجب خیز ہے نہ کہ اللہ کی مدد کا آنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس دعوتی کام کی ذمہ داری اہلِ اسلام پر ہے۔ آپ کے بعد آپ کی امت کو وہ کام انجام دینا ہے جو آپ نے اپنی زندگی میں انجام دیا تھا۔ (الحج (۸) ذمہ داری کی اس توسیع کا قدرتی تقاضا تھا کہ حق میں بھی توسیع کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اعلان فرما دیا کہ وہ تمام لوگ جو اس معاملہ میں پیغمبر اسلام کی پیروی کریں گے وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کی حفاظت میں رہیں گے : يا ايها النبي حسبك الله ومن اتبعك اے نبی، اللہ تمہارے لیے کافی ہے اور مومنین کے من المومنين ( الأنفال ۶۳ ) لیے جنہوں نے تمہارا ساتھ دیا ہے۔ اس آیت کے دو مطلب بتائے گئے ہیں، دوسرا مطلب یہی ہے کہ اللہ تمہارے لیے کافی ہے اور ان کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader