Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

کتمان شہادت

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

کتمان شہادت قدیم عرب میں یہود بڑی تعداد میں آباد تھے۔ ماضی کی روایات کی بنا پر ان کو اپنے ماحول میں سرداری حاصل تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قرآن اور اسلام کی دعوت پیش کی تو یہود آپ کے مخالف ہو گئے ۔ انھوں نے یہ ثابت کرنا شروع کیا کہ ہم دین پر ہیں اور محمد دین سے دور ہو گئے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود کے نزدیک دین نام تھا دین اکابر کا ۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین خدا کو دین کی حیثیت سے پیش کرتے تھے ۔ اس فرق کی بنا پر وہ لوگ آپ کے دشمن ہو گئے ۔ تاہم یہ دشمنی ظاہری تھی۔ یہود اپنے علم کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کے اکابر اس دنیا کے خدا نہیں ہیں بلکہ خدا اس دنیا کا خدا ہے۔ سچا دین وہی ہے جو آدمی کو خدا سے جوڑے نہ کہ جو آدمی کو انسانی اکابر سے وابستہ کرے۔ یہود کا دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی صداقت پر گواہی دیتا تھا مگر دنیا کے فائدے اور قیادت کی مصلحتیں انھیں روکتیں تھیں کہ وہ اپنے دل کی بات کو زبان پر لائیں۔ وہ سچائی کو سچائی جانتے ہوئے اس کے اعلان واظہار سے باز رہے۔ یہود کی اس مجرمانہ خاموشی پر تنبیہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے : ومن اظلم ممن کتم شهادة عنده اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اس گواہی من الله (البقره ۱۲۰) کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے۔ جب آدمی کا دل ایک بات کی سچائی کا اقرار کرے تو گویا اس کے پاس خدا کی گواہی آگئی۔ یہ گواہی خدا کی ایک مقدس امانت ہے۔ آدمی کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس گواہی کا اعلان کرے۔ جو شخص اس خدائی گواہی کے لیے نہ اٹھے وہ ظالم ہے، ایسے ظالموں سے خدا کبھی راضی نہیں ہو سکتا۔ وہ خدا کے معاملہ میں غیر جانبدار ہو گئے ، اس لیے خدا بھی ان کے معاملہ میں غیر جانبدار ہو جائے گا، اور جس کے معاملہ میں خدا غیر جانبدار ہو جائے اس کا زمین وآسمان میں کوئی ٹھکانہ نہیں۔ سچائی موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ جو لوگ سچائی کا ساتھ نہ دیں، انھوں نے خدا کا ساتھ نہیں دیا، انھوں نے خدا کو نظر انداز کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page