Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

اجتماعی مہم

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتماعی مہم قرآن میں اہل ایمان کی یہ خصوصیت بتائی گئی ہے کہ وہ جب رسول (بالفاظ دیگر امور مسلمین کے ذمہ دار) کے ساتھ کسی امر جامع پر ہوں تو بلا اجازت وہاں سے اٹھ کر نہیں جاتے، یہاں امر جامع سے مراد اجتماعی معاملہ ہے۔ یعنی دین کا ایسا کام جس کے لیے مشترکہ عمل ضروری ہو۔ اور " اجازت" کا ذکر بطور "مستی واقعہ" کے ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ دین کے اجتماعی کام سے آدمی کو اسی طرح گہری وابستگی ہونی چاہیے جو اس کو اپنے ذاتی کام سے ہوتی ہے۔ جس کام سے آدمی کے ذاتی فائدے وابستہ ہوں، جس کا تعلق براہ راست اس کی شخصی مصلحتوں سے ہو، وہاں ذاتی فائدہ خود ہی وہ طاقت ور محرک بن جاتا ہے جو آدمی کو اس کام سے جوڑے اور اس کو اس وقت تک اس سے جدا نہ ہونے دے جب تک اس کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ جو کام مطلوب تھا وہ انجام پا چکا ہے۔ ذاتی کام کو آدمی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اس لیے آدمی اس کو کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ مگر جس کام کا تعلق مشترک اجتماعی معاملات سے ہو اس کو آدمی دوسروں کی ذمہ داری سمجھ لیتا ہے۔ ایسے کام کے لیے آدمی کے اندر طاقت ور شخصی محرک نہیں ابھرتا۔ اس لیے عام آدمی اس کو اپنے لیے بوجھ سمجھتا ہے ۔ ایسے کام میں بھر پور دلچسپی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر گہرا اجتماعی شعور موجود ہو۔ وہ اجتماعی مفاد کو اسی طرح اہمیت دینے لگے جس طرح وہ ذاتی مفاد کو اہمیت دیتا ہے۔ مومن سے یہ مزاج مطلوب ہے کہ جب بھی اسلام کا کوئی اجتماعی تقاضا ہو تو وہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کے لیے دوڑ پڑے۔ وہ آخر وقت تک بھر پور طور پر اس میں شریک رہے۔ ایسا آدمی جب امیر اجتماع سے اجازت مانگتا ہے تو وہ فرار کے جذبے کے تحت نہیں ہوتا۔ بلکہ حقیقی سبب کے تحت ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اگر ممکن ہو تو اس کو اجازت دے دو۔ تا کہ اجازت دینا اور اجازت مانگنا دونوں اس روح کے ساتھ ہونا چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page