اصلاح کا طریقہ
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
اصلاح کا طریقہ ایک ہے برائی کو برا سمجھنا اور ایک ہے برے آدمی کو برا سمجھنا۔ دونوں میں ظاہری الفاظ کے اعتبار سے معمولی فرق نظر آتا ہے ۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں اتنا فرق ہے کہ ایک اسلام بن جاتا ہے اور دوسرا غیر اسلام۔ ایک خدا سے ڈرنے والا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ ان لوگوں کا ہے جو خدا سے بے خوف ہو چکے ہوں۔ قرآن میں ہے کہ شیطان انسان کا دشمن ہے (ان الشیطان لالانسان عدو مبین، یوسف (۱۲) دوسری طرف فرمایا کہ آخرت کے عذاب سے وہ لوگ محفوظ رہیں گے جو لوگوں کو برائی سے روکتے تھے (انجینا الذین ینہون عن السور، الاعراف ۔ ۱۶۵) اس سے معلوم ہوا کہ کسی آدمی کو نشانہ بنا کر اس کے خلاف مہم چلانا شیطانی فعل ہے۔ اس کے برعکس آدمی اگر برائی کو نشانہ بنائے اور برائی گو (نہ کہ برے آدمی کو) مٹانے کی کوشش کرے تو یہ فعل خدا کو اتنا پسند ہے کہ اس کی وجہ سے وہ آدمی کو آخرت میں بخش دے گا اور اس کو جنت کے باغوں میں داخل کرے گا۔ آج اگر مسلم معاشرہ کو دیکھئے تو ہر جگہ آپ کو یہ منظر دکھائی دے گا کہ لوگ برائی کو مٹانے کے نام پر ایک یا زیادہ آدمیوں کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ کوئی خاندان ہو یا کوئی محلہ، کوئی قوم ہو یا کوئی ملک ہر جگہ کچھ افراد لوگوں کی مخالفانہ کارروائیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ لوگ برائی کے نام پر کسی شخص خاص کو مٹانے کے لئے اپنی ساری توجہ لگائے ہوتے ہیں۔ اگر برائی کو مٹانے کا ذہن ہو تو آدمی کو برائی سے دشمنی ہوتی ہے نہ کہ کسی شخص خاص سے جس کو برا مشہور کر دیا گیا ہو۔ اگر کسی آدمی میں برائی پائی جائے تو ایسا آدمی صرف معلوم برائی کی حد تک اس کو برا سمجھتا ہے۔ جب کہ دوسرے ذہن کے لوگ ایک برائی کی بنا پر اس کی پوری شخصیت ہی کو قابلِ نفرت سمجھنے لگتے ہیں۔ برائی کو برا سمجھنے والوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ اگر برا آدمی اپنی اصلاح کرلے تو اس کے بعد وہ ان کا دوست بن جاتا ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے لوگوں کو اس کی اصلاح سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ وہ اس کی ذات کے دشمن بن جاتے ہیں اور اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے جب تک اس کو ہلاک نہ کرلیں، اسی طرح برائی کو برا سمجھنے والا اپنے اور غیر میں فرق نہیں کرتا۔ مگر جو شخص برے فرد کو نشانہ بنانے کا مزاج رکھتا ہو وہ اپنے حلقہ کے آدمی کو ایک نظر سے دیکھے گا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader