کتاب مہجور
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
کتاب مہجور قرآن کی سورہ نمبر ۲۵ میں ارشاد ہوا ہے : وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا هذا القرآن اور کہا رسول نے اے میرے رب میری قوم نے ٹھہرا دیا مهجورا ( فرقان - ۳۰ ) اس قرآن کو چھوڑا ہوا۔ اس آیت سے اولاً وہ لوگ مراد ہیں جن کے سامنے قرآن آتا ہے مگر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جیسا کہ مکی دور میں قریش نے کیا۔ تاہم اس نفسیات کا عملی مظاہرہ کبھی ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے جو بظاہر قرآن کو ماننے والوں کی فہرست میں داخل ہوں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں : "آیت میں اگر چہ مذکور صرف کافروں کا ہے۔ تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، اس میں تدبر نہ کرنا، اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی تصحیح قرآت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجران قرآن کے تحت داخل ہو سکتی ہیں " قرآن کے ماننے والوں کے لئے قرآن کو "کتاب مہجور " بنانے کی یہ شکل بھی نہیں ہوتی کہ اس کا احترام و تقدس لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہے۔ برکت اور تقدس کا نشان ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ اس کو اپنے طاق کی زینت بنائے رہتے ہیں۔ البتہ وہ اس سے فکری رہنمائی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا کی کتاب میں ان کے لئے ذہنی غذا نہیں ہوتی ۔ وہ ان کی حقیقی زندگی کا سرمایہ نہیں بنتی۔ وہ ان کی دنیا پرستانہ زندگی کے لئے "برکت کا تعویذ " تو ضرور ہوتی ہے مگر آخرت کی رہنما کتاب کی حیثیت سے ان کی زندگی میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔۔۔ یہ مطلب ہے خدا کی کتاب کو " کتاب مہجور " بنا دینے کا۔ جو لوگ قرآن کو نہ مانیں ان کے لئے قرآن کا چھوڑنا یہ ہے کہ وہ اس کو خدا کی اتاری ہوئی کتاب ماننے سے انکار کر دیں۔ اور جو لوگ قرآن کو مانتے ہوں ان کے لئے قرآن کا چھوڑنا یہ ہے کہ وہ زبان سے قرآن کو خدا کی کتاب کہیں اور اپنی زندگی کو اس کے خلاف چلائیں۔ وہ قرآن کو عقیدہ مانتے ہوئے عملیت سے چھوڑ دیں۔ جب مسلمانوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ قرآن میں غور وفکر نہ کریں۔ وہ اپنے مسائل کا حل قرآن میں تلاش کرنا چھوڑ دیں۔ وہ قرآن کے انداز پر سوچنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ ان کی سرگرمیوں کی بنیاد قرآن نہ رہے تو گویا انھوں نے قرآن کو مانتے ہوئے قرآن کو چھوڑ دیا۔ انھوں نے قرآن کو کتاب مہجور بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader