Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

تنقید، نزاع

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

گھڑی ان پر اچانک آئے گی تو وہ سخت حسرت اور افسوس میں پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ اس باب میں ہم نے کیسی کوتاہی کی۔ اس وقت وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو، کیسا برا بوجھ ہے جسے وہ کوہ اٹھائیں گے۔ اور دنیا کی زندگی تو بس کھیل اور تماشا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ رکھتے ہیں، کیا تم نہیں سمجھتے (الانعام ۳۱-۳۲) حسرت دراصل کھوئی ہوئی چیز پر غم اور ندامت کا نام ہے (اَلْحَسْرَةُ الْغَمُّ عَلَى مَا فَاتَتْهُ وَالنَّدُمُ عَلَيْهِ، المفردات في غريب القرآن) قیامت میں جب پردہ ہٹے گا اور تمام حقیقتیں بے نقاب ہو کر سامنے آجائیں گی اس وقت آدمی پر کھلے گا کہ دنیا میں کتنا بڑا موقع اس کو ملا تھا مگر وہ اس کو استعمال (avail) نہ کر سکا۔ اس نے ملے ہوئے موقع کو کھو دیا۔ اس وقت آدمی جانے گا کہ میرے لیے موقع تھا کہ میں دنیا میں عمل کر کے آخرت میں اس کا قیمتی انعام حاصل کروں۔ مگر اس واحد موقع کو میں اپنے لیے کارآمد نہ بنا سکا۔ اب دوبارہ عمل کا موقع نہیں۔ اب ابد تک میرے لیے صرف یہ مقدر ہے کہ میں اپنی کوتاہی کا انجام بھگتار ہوں ۔ میرے لیے موقع تھا کہ میں حق کے اعتراف کا کریڈٹ لوں مگر میں نے صرف حق کے انکار کا ثبوت دیا۔ میرے لیے موقع تھا کہ میں خدا کے آگے جھک جاؤں مگر میں خدا کے آگے سرکشی کرتا رہا۔ میرے لیے موقع تھا کہ میں انصاف والا معاملہ کروں مگر میں برابر بے انصافی کرتا رہا۔ میرے لیے موقع تھا کہ میں سچے انسانوں کا ساتھ دوں مگر میرا گھمنڈ میرے لیے ان کا ساتھ دینے میں رکاوٹ بنارہا۔ میرے لیے موقع تھا کہ میں حق دار کو اس کا حق ادا کروں مگر میں حق دار کو اس کا حق ادا کرنے میں ناکام رہا۔ میرے لیے موقع تھا کہ میں بے لاگ سچائی کا اعلان کروں مگر میں ہمیشہ مصلحت والی باتیں لکھتا اور بولتا رہا۔ میں نے کھو دیا حالانکہ میرے لیے پانے کا امکان پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ یہ حسرت بلاشبہ سب سے بڑا عذاب ہے، اور یہ عذاب ہر اس انسان کے لیے مقدر ہے جس پر موت اس حال میں آئے کہ وہ اپنے دنیا کے موقع کو اپنی آخرت کے لیے استعمال نہ کر سکا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page