روایت کو توڑنا
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
روایت کو توڑنا قرآن میں قتل کی برائی کو بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جس شخص نے کسی آدمی کو بلا سبب قتل کیا تو اس نے گویا سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ اور جس شخص نے ایک آدمی کی زندگی کو بچایا تو اس نے گویا تمام آدمیوں کو بچا لیا (المائدہ ۳۲) اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جب اس قسم کا جرم کرتا ہے تو وہ احترامِ جان کی روایت کو توڑتا ہے۔ احترامِ جان کی روایت ایک قسم کی نفسیاتی رکاوٹ ہے جو لوگوں کو اس سے روکے رہتی ہے کہ وہ کسی کی زندگی پر حملہ کریں۔ مگر جب کسی سماج میں یہ روایت ایک بار توڑ دی جائے تو پھر نفسیاتی رکاوٹ کی دیوار گر جاتی ہے۔ ایک شخص کے بعد دوسرے لوگ اس مجرمانہ عمل پر جری ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک آدمی کا قتل سارے آدمیوں کے قتل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے مسلم اسپین کی مثال لیجئے۔ اسپین کے مسلم عہد کے آخر میں مسلمان اپنی نا اتفاقی کی بنا پر کمزور ہو گئے۔ اولاً وہ متفرق ریاستوں میں بٹ گئے۔ اور پھر ایک ایک کر کے یہ ریاستیں ختم ہو گئیں۔ آخر میں انھوں نے سلطنتِ غرناطہ قائم کی جس کا پہلا سلطان نصر بن یوسف تھا جو ابن الاحمر کے نام سے مشہور ہے۔ اسی بادشاہ نے غرناطہ میں مشہور محل الحمرا تعمیر کرایا۔ سلطنتِ غرناطہ کا تیسرا بادشاہ محمد مخدوع تھا۔ اس کو اس کے بھائی نصر بن محمد نے ۷۱۰ھ میں قتل کرا دیا تا کہ اس کا کوئی سیاسی رقیب باقی نہ رہے۔ اس قتل نے شاہی محل کے اندر احترامِ جان کی روایت کو توڑ دیا اور پھر بادشاہوں کے قتل کا ایک لا متناہی سلسلہ چل پڑا ۔ اس کے بعد سلطان ابو الولید کو اس کے بھتیجے نے ۷۲۵ھ میں قتل کر ڈالا ۔ اس کے بعد سلطان محمد تخت پر بیٹھا۔ اس کو اس کے رشتہ داروں نے ۷۳۳ھ میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد سلطان یوسف سلطنتِ غرناطہ کا حکمران ہوا۔ گروہ بھی ۷۵۵ھ میں نیزہ مار کر ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد سلطان اسماعیل تخت نشین ہوا۔ مگر ۷۶۱ھ میں خود اس کے بھائی نے اس کو قتل کر دیا۔ غرض اس طرح ایک کے بعد ایک بادشاہوں کا قتل ہوتا رہا یہاں تک کہ ۸۹۷ھ (۱۴۹۲ء) میں خود سلطنتِ غرناطہ کا خاتمہ ہو گیا۔ روایت کا تحفظ انسانیت کا تحفظ ہے ۔ اور روایت کو توڑنا انسانیت کو توڑنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader