Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

مطالعہ قرآن قرآن میں یہود کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے وہ ایک "نجات دہندہ" کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جب وہ آئے گا تو ہم اس کا ساتھ دے کر مشرکوں سے لڑیں گے اور پھر دوبارہ اپنا غلبہ قائم کریں گے۔ مگر جب محمد بن عبداللہ کی صورت میں وہ آنے والا آیا تو یہود نے آپ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ وہ آپ کے سخت ترین دشمن بن گئے (البقرہ رکوع (۱) اس کی کیا وجہ ہے کہ جو لوگ ایک آنے والے کے منتظر رہتے ہیں، جب وہ آنے والا آتا ہے تو یہی لوگ اس کے سب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔ اس کا جواب قرآن کے مذکورہ حصہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس انکار اور دشمنی کا سبب ہوائے نفس (البقرہ، ۸) ہے۔ یہ انتظار کرنے والے سمجھتے ہیں کہ آنے والا ان کی ہوائے نفس کے مطابق ہوگا۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ ان کی ہوائے نفس کی تائید نہیں کر رہا ہے تو پہچان لینے کے باوجود وہ اس کے منکر اور مخالف بن جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے وہ خدا کے فیصلہ کو بدلنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ آنے والا جب آمیز حق کو لے کر آتا ہے، جب کہ وہ ملاوٹ والے حق کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ آنے والا خدا کی بڑائی کو بیان کرتا ہے، جب کہ وہ اپنے اکابر کی بڑائی کو محبوب بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ آنے والا اصولی دین کا اعلان کرتا ہے، جب کہ وہ قومی دین کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ آنے والا آخرت کے مسائل کو سب کو بتاتا ہے، جب کہ وہ دنیا کے مسائل کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ آنے والا زندہ دین کی طرف پکارتا ہے، جب کہ وہ جامد دین کی بنیاد پر گڈیاں سنبھالے ہوئے ہوتے ہیں۔ آنے والا اتباع حق کا داعی ہوتا ہے، جب کہ وہ اتباع ہوئی پر اپنی زندگی کا نقشہ بنائے ہوتے ہیں۔ یہ سرق آنے والے کو ان کی نظر میں سخت مبغوض بنا دیتا ہے ۔ وہ اپنی اصلاح پر آمادہ نہیں ہوتے، کیوں کہ اس میں انھیں اپنی پوری زندگی کا ڈھانچہ بگڑتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس لیے وہ آنے والے کو غلط ثابت کرنے کی جھوٹی مہم شروع کر دیتے ہیں۔ وہ خود اپنے مطلوب کو نامطلوب بنا دیتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page