ایک آیت
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آیت قرآن میں مختلف قسم کے گناہوں کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ جو شخص ان گناہوں میں مبتلا ہوگا اس کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب اور رسوائی ہے۔ اس ذیل میں ارشاد ہوا ہے : إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحاً مگر جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً وَمَنْ تَابَ بدل دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور جو وَعَمِلَ صَالِحاً فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ شخص توبہ کرے اور نیک کام کرے تو وہ درحقیقت مَتَاباً (الفرقان ، ۷۰-۷۱) اللہ کی طرف رجوع کر رہا ہے۔ دین میں کسی عمل کو جانچنے کا معیار اس کا ظاہری پہلو نہیں ہے بلکہ اس کا نفسیاتی نتیجہ ہے۔ ہر دینی عمل کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر کسی عمل سے اللہ تعالی کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ اس عمل کے دوران آدمی کے اندر کسی قسم کا احساس جاگا۔ وہی عبادت عبادت ہے جس میں مشغول ہو کر آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا ہو۔ اگر عبادت کرکے بڑائی کی نفسیات پیدا ہو جائے تو ایسی عبادت انعام کے بجاے مواخذہ کا سبب بن جائے گی۔ انسان فرشتہ نہیں ہے، انسان کے اندر نفس کی کمزوریاں موجود ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان بار بار اس دنیا میں پھسل جاتا ہے۔ اس سے بار بار غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ اب اگر انسان قصد آکوئی گناہ کرے اور گناہ کرکے اس پر قائم رہے تو وہ اللہ کی نظر میں سخت مجرم ہے۔ وہ قیامت کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ دوسرا انسان وہ ہے جس سے طبعی کمزوری کی بنا پر غلطی ہو جائے۔ مگر غلطی کے بعد وہ فوراً تنبہ ہو اس کے اندر شرمندگی اور توبہ کا احساس جاگے ۔ وہ خدا سے معافی مانگے اور آئندہ کے لیے غلطی نہ کرنے کا عزم کرے تو ایسا آدمی اللہ کی نظر میں قابل انعام بن جاتا ہے۔ اس کی غلطی اگر چہ ابتداً از غلطی تھی۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ توبہ اور انابت میں ڈھل گئی۔ اس نے آدمی کے اندر ایمان اور عمل صالح کا نیا احساس جگا دیا۔ یہی وہ برائی ہے جو بظاہر برائی ہونے کے باوجود خدا کے یہاں نیکی کے خانہ میں لکھ دی جاتی ہے کیونکہ وہ آدمی کو ایک نیکی تک پہنچانے کا سبب بنی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader