Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

تقویٰ نہ کہ شور و غل

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

تقویٰ نہ کہ شور و غل قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ مکہ کے مشرکین مسجد حرام کے والی بننے کے لائق نہیں۔ اس کے والی تو صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو متقی ہیں۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اور ان مشرکین کی نماز کعبہ کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں کہ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ پس عذاب چکھو اپنے انکار کے سبب سے (انفال ۳۵-۳۴) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکہ کے مشرکین خانہ کعبہ میں جمع ہو کر صرف سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے، اس کے سوا کچھ اور نہیں کرتے تھے۔ وہ دراصل اپنے دعوے کے مطابق ابراہیم اور اسماعیل کی عبادت کرتے تھے۔ البتہ انھوں نے اس عبادت پر تالیوں اور سیٹیوں کا اضافہ کر لیا تھا۔ یہ چیزیں ان کی کل عبادت نہ تھیں بلکہ ان کی اصل عبادت کا جزو تھیں ۔ جیسا کہ آج بھی گمراہ فرقوں اور قوموں میں عبادت کے ساتھ ساتھ تالی پیٹنے اور گھنٹی اور ناقوس بجانے کا رواج ہے اور ان چیزوں کو وہ اصل عبادت کا ضروری حصہ سمجھتے ہیں۔ قرآن نے مشرکین کے عبادتی مراسم کو تالی اور سیٹی کے تابع کر دیا اور تہدیدی انداز میں کہا کہ انھوں نے سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کو عبادت سمجھ لیا ہے۔ حالاں کہ عبادت تقویٰ کا نام ہے نہ کہ کسی قسم کا شور و غل کرنا۔ مشرکین مکہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کعبہ کا طواف کرتے تو نیم برہنہ ہو جاتے۔ وہ کعبہ کے گرد اسی طرح گھومتے تھے جس طرح آج کوئی حاجی گھومتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ یہ کرتے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں باندھ کر اس میں پھونکتے جس سے سیٹی کی سی آواز نکلتی (انہم کانوا یطوفون بالبیت عراۃ وهم مشبکون بین اصابعهم يصفقون فيها و يصفتون، تفسیر نسفی) اسی طرح جب وہ نماز پڑھتے تو وہ بھی عام نمازیوں کی طرح سجدہ میں جاتے مگر اس وقت وہ اپنے رخسار زمین پر رکھ دیتے اور اسی کے ساتھ تالیاں بجاتے اور کلمات عبادت کی ادائیگی کے ساتھ دوسری آوازیں نکالتے (انهم كانوا يضعون خدودهم علی الارض ويصفقون ويصفدون، تفسیر ابن کثیر) موجودہ زمانہ میں عبادتی مواقع پر جس طرح لاؤڈ اسپیکروں کا شور بلند ہوتا ہے اور جس طرح دھوم دھام کے ساتھ دینی تقریبات منائی جاتی ہیں ان پر بھی قرآن کے یہ الفاظ پوری طرح صادق آتے ہیں۔ ان مواقع پر اگر چہ حسب قاعدہ کچھ عبادتی افعال بھی کئے جاتے ہیں مگر ان کی عبادت پر ان کے ہنگامے اس طرح غالب رہتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر ایک درد مند شخص کہہ اٹھے گا : " انھوں نے شور و غل کو اسلام سمجھ لیا ہے "

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page