گراوٹ کا آخری درجہ
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
گراوٹ کا آخری درجہ قرآن میں یہود کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے ان کی بدعملی کی سزا میں ان کو مسخ کر دیا۔ "کہو کیا میں ان لوگوں کے بارے میں بتاؤں جن کا انجام خدا کے یہاں فاسقوں کے انجام سے بھی زیادہ برا ہے ۔ وہ جس پر خدا نے لعنت کی اور جس پر اس کا غضب ہوا۔ اور جن میں سے بندر اور سور بنا دئے گئے (مائدہ ۶۰) بندر اور سوربنانے سے مراد بندراور سور کی شکل کا بنانا نہیں ہے بلکہ بندر صفت اور سور صفت بنانا ہے (قال مجاهد : مسخت قلوبهم ولم يمسخوا قردة ، تفسير ابن كثير، جلد اول صفحه ۳) جب آدمی خدا کی دی ہوئی عقل سے کام نہیں لیتا اور خدا کی تعلیمات سے نصیحت نہیں پکڑتا تو دھیرے دھیرے وہ انسان کے درجہ سے گر کر حیوان کے درجہ پر آجاتا ہے۔ اب اس کی سوچ حق اور ناحق کے اعتبار سے کام نہیں کرتی بلکہ طبعی تقاضوں اور حیوانی خواہشات پر چلنے لگتی ہے۔ یہی وہ حالت ہے جس کو حیوان بن جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سور کی صفت کیا ہے۔ ستھری چیزوں کو چھوڑ کر گندی چیزوں کو اپنی خوراک بنانا۔ سور صفت انسان وہ ہے جس کو صالح فکر اپیل نہ کرے۔ البتہ فاسد فکر سامنے آئے تو اس کی طرف تیزی سے دوڑ پڑے۔ جائز عمل میں اس کو لذت نہ ملے۔ البتہ ناجائز اعمال میں وہ خوب ذوق شوق کے ساتھ حصہ لیتا ہو۔ یہ وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ "ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس کو نہ اپنائیں اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اس کو اپنا لیں (اعراف ۱۴۶) جو لوگ بگاڑ کے اس درجہ کو پہنچ جائیں ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ان کے سامنے قرآن وسنت کا طریقہ پیش کیا جائے تو وہ ان کے ذہن کا جزر نہیں بنتا البتہ ایجنڈ ایا دنیا دار لیڈروں کے طریقہ انھیں تیزی سے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ درینی سیاست اختیار کرنا ان کو مشکل معلوم ہوتا ہے البتہ لادینی سیاست کے لئے وہ خوب جوش وخروش دکھاتے ہیں ۔ خاموش تعمیری پروگرام میں انھیں دلچسپی نہیں ہوتی البتہ الیکٹر یچائرز کے پروگرام میں حصہ لینے کے لئے وہ فوراً آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اپنی اصلاح کا پیغام انھیں متاثر نہیں کرتا البتہ دوسروں کے خلاف شور و غل کرنا ہو تو ان کی بھیڑ کی بھیڑ اس کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے۔ صبر کا طریقہ کار انھیں بزدلی معلوم ہوتا ہے اور مشتعل ہو کر لڑ جانے کو وہ بہادری سمجھتے ہیں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ان کے نزدیک بے عزتی کے ہم معنی ہوتا ہے اور یک طرفہ طور پر دوسرے کو الزام دینا انھیں کمال دکھائی دیتا ہے۔ محبت کا انداز اختیار کرنا ان کو بے فائدہ نظر آتا ہے اور نفرت کے طریقے پر چلنا ہو تو اس کی طرف وہ اتنی تیزی سے لپکتے ہیں گویا اسی میں سارے مسائل کا حل چھپا ہوا ہے۔ اصولی نقطہ نظر ان کے سامنے لایا جائے تو وہ ان کو پے کار دکھائی دے گا البتہ قومی طراز کی باتیں کی جائیں تو وہ ان کو اس طرح لیں گے جیسے ان کو لذیذ ذہنی غذا ہاتھ آگئی ہے ۔ ان کو ایسے واقعات سے دل چسپی نہیں ہوتی جس میں تعمیری سبق ہو۔ البتہ ایسی کہانیوں کو سننے کے وہ بہت مشتاق رہتے ہیں جوان کی تخریب پسندی کی غذا بن سکتی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader