Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

یہ یہودیت ہے

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ یہودیت ہے مفسر قرآن مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ مائدہ (آیت ۷۲) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں "بنی اسرائیل کو جب یہ حکم دیا گیا کہ ظالموں اور جابروں سے قتال کرو تو وہ خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے ۔ اس کے مقابلہ میں) متقی اور مقبول بندوں کا قتل جو شدید ترین جرائم میں سے ہے اس کے لئے یہ ملعون ہمیشہ مستعد اور تیار نظر آتے ہیں۔ پہلے بھی کتنے نبیوں کو قتل کیا اور آج بھی خدا کے سب سے بڑے پیغمبر کے خلاف از راہ بغض و حسد کیسے کیسے منصوبے گانٹھتے رہتے ہیں۔ گویا ظالموں اور شریروں کے مقابلہ سے جان چرانا اور بے گناہ معصوم بندوں کے خلاف قتل و سزائیں کرنا یہ قوم (یہود) کا شیوہ رہا ہے اور اس پر نحن ابناء اللہ واحباء ہ کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں (صفحه ۱۴۴) مولانا عثمانی کا مذکورہ اقتباس ایک اہم قرآنی حقیقت کو تبارہا ہے۔ قرآن میں یہود کو مطعون قرار دیا گیا ہے۔ یہ ملعونیت نسل اور قوم کی بنا پر نہیں ہے بلکہ کردار کی بنا پر ہے۔ مزید قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق صرف یہود سے نہیں ہے۔ نام نہاد مسلمان اگر اسی قسم کے کردار کا ثبوت دیں تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو یہود کے لئے مقدر کیا گیا ہے (لیس بامانیکم ولا امانی اهل الكتاب من يعمل سوءا يجز به، النساء ۱۲۳) یہود کا ایک کردار ، قرآن کے مطابق یہ ہے کہ آدمی کا یہ حال ہو کہ شریر قسم کے لوگوں سے معاملہ پڑے تو وہ بزدل بن جائے اور سیدھے سادے نیک لوگوں کے لئے وہ بھیڑیا ثابت ہو۔ خدا کا خوف اس کے ہاتھ اور پاؤں کو نہ روکے مگر جب معاملہ طاقت ور قسم کے لوگوں سے ہو تو وہ فوراً دست ہو جائے۔ حق اور انصاف کی بات اس پر اثر انداز نہ ہو مگر گنڈے کی منطق سامنے ہو تو وہ فوراً راہ راست پر آجائے۔ اس قسم کا کردار یہودی کردار ہے ۔ وہ خواہ غیر یہودیوں سے ظاہر ہو، اس کا انجام خدا کے یہاں وہی ہے جو معروف یہودیوں کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page