انسان کو رب بنانا
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو رب بنانا قرآن میں یہود و نصاریٰ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے احبار (علماء) اور رہبان (مشائخ) کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا اور مسیح بن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں صرف ایک معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں (التوبہ ۳۱) امام احمد اور امام ترمذی نے عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے۔ وہ زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا۔ انھوں نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا اور کہا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار و رہبان کی عبادت تو کبھی نہیں کی۔ آپ نے فرمایا: بلیٰ انهم حرموا عليهم الحلال واحلوا لهم ہاں، ان کے علماء و مشائخ نے ان پر حلال کو حرام کیا اور الحرام فاتبعوهم فذلِكَ عبادتهم اياهم حرام کو ان کے لئے حلال کیا۔ تو انھوں نے ان کی پیروی کی۔ (تفسیر ابن کثیر) ان کا یہی فعل علماء و مشائخ کی عبادت ہے۔ عبادت کی یہ قسم کوئی انوکھی نہیں۔ اس کو آج بھی آپ ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارا ایک فتیاڈیا ایک بزرگ کسی شخص سے بگڑ جائے اور اس کے خلاف انتقامی کارروائی کرے تو اس کے تمام معتقدین اس میں اس کا ساتھ دیں گے۔ حالانکہ خدا کی شریعت میں یہ حرام ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔ اس کے بعد اس بزرگ کے تمام معتقدین اس کو جائز سمجھ لیں گے کہ اس شخص کو ہر طریقہ سے ستائیں۔ اس کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹی باتیں مشہور کریں۔ اس شخص کے بارے میں خدا کے ان تمام احکام کو بھول جائیں جو انسان کے حقوق یا مسلمان کے احترام کے بارے میں دئے گئے ہیں۔ ایسی صورت پیش آنے کے بعد وہ اپنے بزرگ کو خوش کرنے والے دین پر چلیں گے نہ کہ خدا کو خوش کرنے والے دین پر۔ اس کے لئے وہ حرام کو حلال کریں گے اور حلال کو حرام بنائیں گے اور انھیں کبھی خیال تک نہ آئے گا کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنانے کی غلطی کر رہے ہیں۔ کسی بزرگ سے آدمی کو اتنا شدید تعلق کیوں ہوتا ہے کہ اس کی خاطر وہ خدا کے احکام تک کو بھول جاتا ہے، اس کا راز اداراتی مذہب (Institutionalised Religion) ہے۔ اداراتی مذہب دراصل مذہب کے گدی بن جانے کا دوسرا نام ہے۔ جس طرح جائیداد کے وراشتی نظام میں ایک شخص محض اس لئے ایک بڑی جائیداد کا مالک بن جاتا ہے کہ وہ اس کو وراثت میں مل گئی ہے۔ اسی طرح اداراتی مذہب میں یہ ہوتا ہے کہ ماضی سے بزرگوں کی جو ایک گدی چلی آ رہی ہے، بس اسی کی اصل اہمیت ہوتی ہے۔ اور جو شخص اس گدی پر بیٹھ جائے وہ مذکورہ گدی کا گدی نشین ہونے کی وجہ سے ان تمام کرامات کا اوصاف کا حامل سمجھ لیا جاتا ہے جو روایتی طور پر اس گدی کے بارے میں ماضی سے چلی آ رہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader