اور وہ غالب ہوگئے
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
اور وہ غالب ہوگئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اے ایمان لانے والو ، تم لوگ اللہ کے مددگار بنو جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ کون اللہ کے لئے میرا مددگار بنتا ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ منکر ہوگیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی اور وہ غالب ہوگئے (الصف ۱۴) مگر واقعات بتاتے ہیں کہ مومنین مسیح بہت تھوڑے اور کمزور تھے اور مخالفین بہت زیادہ اور طاقت ور تھے۔ چنانچہ اس وقت عملاً جو ہوا وہ یہ کہ حضرت مسیح کی دعوتی جدوجہد کی تکمیل کے بعد یہود کے منکر طبقہ نے آپ کے ساتھیوں کو دبالیا اور بزعم خود پیغمبر کو سولی پر چڑھا دیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ فا صبحوا ظاہرین کا واقعہ کب اور کیوں پیش آیا۔ قصہ یہ ہے کہ وقتی طور پر تو منکرین مسیح کا گروہ غالب آگیا۔ انھوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کی کوشش کی مگر آپ کو خدا نے عزت کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا۔ مگر خدا کا قانون یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد انکار کو وہ معاف نہیں کرتا۔ چنانچہ جو کام مسیح کے ابتدائی مومنین نہ کر سکے تھے اس کو دوسروں کے ذریعہ لیا گیا۔ ۷۰ء میں رومی شہنشاہ تیتس نے یروشلم پر حملہ کیا اور مخالفین مسیح (یہود) میں کچھ کو ہلاک کیا اور کچھ کو ذلیل کر کے ان کے مرکز سے نکال دیا جس کے بعد وہ تتر بتر ہو گئے۔ دوسری طرف مسیح کے ماننے والوں (نصاریٰ) کو یہ موقع ملا کہ وہ مسیحیت کے مبلغ بن کر اطراف کے ملکوں میں پھیلے۔ وہ رومی شہنشاہیت میں داخل ہوتے۔ انھوں نے اپنی تبلیغ سے بہت سے لوگوں کو عیسائی بنایا۔ توسیع سمیت کا یہ عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ رومی شہنشاہ قسطنطین (۳۰۷۔ ۳۳۷ء) نے سمیت قبول کر لی۔ یہ الناس علی دین ملوکہم کا زمانہ تھا۔ رومی شہنشاہ کے قبول سمیت کے بعد اس کی پوری مملکت میں مشرق سے مغرب تک مسیحیت پھیلنے لگی۔ حضرت مسیح کے رفع کے تین سو سال بعد یہ حال ہوا کہ رومی شہنشاہیت کے اکثر باشندے عیسٰی بن گئے۔ یہاں تک کہ سمیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن گیا۔ یہودی سیمی قوموں کے محکوم ہوگئے، حتی کہ موجودہ اسرائیل بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader