ذاتی عینک
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
ذاتی عینک جب آدمی کے ذہن پر کسی چیز کا شدید غلبہ ہو تو اس کو ہر چیز میں وہی چیز نظر آتی ہے۔ ایک شخص بھوکا ہے اور روٹی کے لئے تڑپ رہا ہے۔ اس سے اگر پوچھا جائے کہ دو اور دو مل کر کتنے ہوتے ہیں تو وہ کہے گا کہ چار روٹیاں۔ حتیٰ کہ وہ سورج اور چاند کی طرف دیکھے گا تو ان کی گولائی میں بھی اس کو روٹی کی صورت دکھائی دے گی۔ اسی حقیقت کو نظیر اکبر آبادی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے : ہم تو نہ چاند کہیں نہ سورج ہیں جانتے بابا با ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں یہی صورت دین میں بھی پیش آتی ہے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ہے : يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ اے رسول جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا اس کو پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تم نے اس بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کی رسالت نہیں پہنچائی اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ شیعہ حضرات کے ذہن پر حضرت علی کی حب خلافت کا غلبہ ہے۔ وہ اسی کو سب سے بڑا دینی مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے جب یہ آیت پڑھی تو فـورا اُن کے ذہن نے کہا کہ اس آیت میں حضرت علی کی خلافت بلا فصل کا بیان ہے۔ شیعہ علماء کا کہنا ہے کہ اس آیت میں جس چیز کی تبلیغ کا حکم ہے وہ حضرت علی کی خلافت ہے۔ آپ کو خدا نے وحی کی کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ میرے بعد علی ابن ابی طالب سلطنت اسلامی کے خلیفہ ہوں گے۔ ان کے نزدیک اس آیت میں عام احکام دین کی تبلیغ مراد نہیں ہے بلکہ علی کی خلافت کی تبلیغ مراد ہے۔ اسی طرح ہر آدمی کوئی نہ کوئی خیال اپنے ذہن میں لئے ہوئے ہے۔ وہ جب قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کو اپنا خیال قرآن کے صفحات میں لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ قرآن میں لکھا ہوا ہو کہ ” کرو“ تو وہ اپنی طرف سے لفظ بڑھا کر سمجھ لیتا ہے کہ فلاں کام کرو۔ یہی حال ان لوگوں کی ہے جن کے ذہن میں یہ بسا ہوا ہے کہ اسلام کا مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ وہ قرآن میں پڑھتے ہیں کہ دین قائم کرو (اقيموا الدين) ان کا ذہن ان الفاظ سے فوراً یہ معنی نکال لیتا ہے کہ دینی حکومت قائم کرو۔ حالانکہ یہاں دین کا لفظ اجتماعی نظام کے معنی میں نہیں ہے بلکہ انفرادی تقاضوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader