فطرت کی تصدیق
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کی تصدیق سیدھا رکھو اپنا رخ دین پر ایک طرف کا ہو کر۔ وہی فطرت اللہ کی جس پر پیدا کیا لوگوں کو۔ بدلا نہیں ہے اللہ کے بنائے کو۔ یہی ہے دین سیدھا۔ مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ سب رجوع ہو کر اس کی طرف۔ اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور قائم کرو نماز اور نہ ہو جاؤ شرک کرنے والوں میں۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور ہو گئے فرتے فرتے۔ ہر گردہ اس پر نازاں ہے جو اس کے پاس ہے۔ اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارنے لگتے ہیں اس کی طرف رجوع ہو کر۔ پھر جب اللہ چکھاتا ہے ان کو اپنی طرف سے کچھ مہربانی تو ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں۔ تا کہ منکر ہو جائیں ہمارے دئے ہوئے سے۔ پس چند روز فائدہ اٹھا لو۔ جلدی تم جان لو گے (روم ۳۳-۳۰) آدمی کیا ہے ۔ امیدوں اور حوصلوں اور تناؤوں کا ایک مجموعہ ۔ آدمی اپنی عین بناوٹ کے لحاظ سے ایک مرکز چاہتا ہے جس کی طرف وہ اپنی تو جہات کو مرتکز کر دے، جس کی طرف وہ پھیکے ، جس کی یاد کو لئے ہوئے وہ سوئے اور جاگے، اپنے وجود کو ہمہ تن جس کے حوالے کر دے ۔ جس طرح کسی آدمی کے بس میں نہیں کہ اپنے اندر سے کھانے اور پانی کی طلب کو ختم کر دے، اسی طرح کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان احساسات سے ، اپنے آپ کو خالی کر سکے ـ آدمی جب ان پہلوؤں سے خدا کو اپنا مرکز توجہ بنائے تو یہ توحید ہے اور جب کوئی دوسری چیز اس کی تو جہات کا مرکز بن جائے تو اسی کا نام شرک ہے۔ توحید یا خدا پرستی کے داخل فطرت ہونے کا یہاں ایک نہایت سادہ ثبوت دیا گیا ہے جس کا تجربہ کسی نہ کسی وقت ہر شخص کو ہوتا ہے، وہ یہ کہ ہر آدمی اپنے مشکل دقتوں میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ فطرت انسانی کا ایسا تقاضا ہے جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہ ہو سکی۔ آدمی خواہ مشری ہو یا منکر ، جب ڈر کا لمحہ آتا ہے تو حقیقت کھل جاتی ہے اور اس کی فطرت بے اختیار اسی ایک خدا کو پکار نے لگتی ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اسی بنا پر کسی نے کہا ہے کہ خدا اگر موجود نہ ہو تب بھی ضروری ہوگا کہ خدا کو ایجاد کیا جائے: مطلب یہ کہ انسان خدا جیسی ایک ہستی کا اتنا زیادہ محتاج ہے کہ وہ اس کے کسی حال میں خالی نہیں رہ سکا ۔ حتی کہ اگر خدا فی الواقع موجود نہ ہو تو وہ خود سے اپنا ایک معبود گھڑے گا اور اس کو خدا کی طرح پکارے گا۔ تا کہ اپنی فطرت میں چھپے ہوئے جذبات کو تسکین دے سکے۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کو اپنا مرکز توجہ بنا لے۔ مگر جب بگاڑ آتا ہے تو کچھ اشخاص لوگوں کا مرکز تو جہ بن جاتے ہیں۔ ہر گردو کسی زندہ یا مردہ شخصیت کے گرد جمع ہو جاتا ہے۔ ہر گروہ فضل و کمال کا ایک ایسا معیار بنا لیتا ہے جس میں اس کی اپنی محبوب شخصیت سب سے زیادہ اپنی دکھائی دے۔ اس طرح ہر گردہ کے گرد فرضی خوش خیالیوں کا ایک قلعہ تیار ہو جاتا ہے جس میں پناہ گزیدہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی دنیا و آخرت کو محفوظ کر لیا۔ اب خدا پرستی کے نام پر انسان پرستی دین میں داخل ہو جاتی ہے اور اسی کے ساتھ دوسرا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دین ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کئی دینوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader