Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

بگاڑ کا سبب کیا ہے

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

بگاڑ کا سبب کیا ہے دنیا میں بگاڑ کیوں ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ یہاں کوئی ایسی طاقت نہیں جو لوگوں کو صدفی صد اپنی گرفت میں لے سکے۔ ہر طاقت، خواہ وہ حکومت اور قانون کی ہو یا کوئی اور، اس کی گرفت انسانی زندگی میں ایک حد پر جاکر ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد آدمی کا اپنا ارادہ شروع ہو جاتا ہے۔ آدمی کو صدفی صد اپنی گرفت میں لینے والا دو میں سے کوئی ایک ہی ہو سکتا ہے اللہ یا آدمی کا اپنا ارادہ۔ آخرت اللہ کی گرفت کے ظہور کا مقام ہے۔ اور دنیا انسانی ارادہ کی گرفت کا امتحان ہے۔ آخرت میں تمام انسان براہ راست خدا کی مکمل گرفت میں آ جائیں گے۔ کسی کو ادنی درجہ میں بھی ذاتی اختیار باقی نہیں رہے گا۔ یہی کیفیت موجودہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ جو واقعہ آخرت میں براہ راست خدا کی طرف سے ہونے والا ہے، اسی کو دنیا میں خود اپنے ارادہ سے اپنے اوپر طاری کرنا ہے۔ اسی کا نام ایمان ہے۔ جنت اسی کے لئے ہے جو دنیا کی زندگی میں اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو صدفی صد اللہ کی گرفت میں دے دے۔ باقی دہ لوگ جو آخرت میں خدا کی گرفت میں آئیں، ان کا گرفت میں آنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ وہ دن تو مالک کائنات کی طرف سے باغی اور سرکش انسانوں کی گرفتاری کا دن ہوگا۔ یہ گرفتاری صرف اس لئے ہوگی کہ ایسے لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیا جائے۔ وہ کسی بھی درجہ میں ان کے کام آنے والی نہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سلام نام ہے اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کے مطابق بنانے کا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اس کائنات میں ہر قسم کا اختیار و اقتدار صرف خدا کو حاصل ہے۔ انسان کو بظاہر جو اختیار حاصل ہے، وہ محض عارضی ہے اور موت آتے ہی مکمل طور پر چھین جاتا ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنی اس عاجزانہ حیثیت کو موت سے پہلے مان لینا اور اپنے آپ کو ہر تن اس پر ڈھال لینے کا نام اسلام ہے۔ جس نے حالت غیب میں اپنے ارادہ سے ایسا کر لیا وہ جنتی ہے اور جو خدا کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا اعتراف کرے اس کے لئے ابدی رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یوم نقول لجھنم هل امتلات وتقول ھل من جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے کیا تو بھر گئی۔ وہ بولے مزید ۔ وازلفت الجنة للمتقين غير گی کچھ اور بھی ہے۔ اور جنت ڈر والوں کے قریب بعید ۔ ھذا ما توعدون لكل اواب حفیظ۔ لائی جائے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی۔ یہ ہے جس کا وعدہ من خشى الرحمن بالغیب وجاء بقلب منيب تھا ہر ایک رجوع کرنے والے یاد رکھنے والے سے۔ ادخلوھا بسلام ذلك يوم الخلود ۔ لھم ما جو ڈرا اللہ سے بن دیکھے اور لایا دل جس میں رجوعع يشاءون فيها ولدينا مزيد ہے، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ دن (ق ۳۵ - ۳۰) ہے ہمیشہ رہنے کا۔ ان کو جنت میں سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس زیادہ بھی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page