حقیقت بے نقاب
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم کی غرض سے مدینہ میں مقیم تھے اور نہایت دلچسپ باتیں کیا کرتے تھے۔ مصطفیٰ شاور نے ایک لطیفہ سنایا۔ ایک حاکم تھا۔ اس کا ایک اونٹ تھا جو ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ اور کھیتوں اور باغوں میں بہت نقصان کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگ پریشان ہو کر اپنے خطیب (امام مسجد) کے پاس گئے اور کہا کہ اس کا کچھ علاج کیجئے۔ خطیب کے ذہن میں ایک تدبیر آئی۔ اس نے گاؤں والوں سے کہا کہ تم سب جمع ہو کر میرے ساتھ چلو۔ میں حاکم کی قیام گاہ پر پہنچ کر اس کو بلاؤں گا۔ جب حاکم باہر آئے گا تو میں بلند آواز سے کہوں گا: یا حاكم جملك (اے حاکم تمہارا اونٹ) اس کے جواب میں تم لوگ پیچھے سے آواز لگانا: اِمنَعْہُ عَنّا (اس کو ہم سے روک دے) خطیب صاحب روانہ ہوئے اور جوش میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ شروع میں گاؤں کے لوگ بھی ان کے پیچھے تھے۔ مگر ساتھ ہی ان پر حاکم کا خوف طاری تھا۔ چنانچہ ایک ایک کر کے وہ راستہ میں چھٹنے لگے۔ یہاں تک کہ سب کے سب خاموشی سے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ آخر میں خطیب صاحب کے سوا کوئی اور باقی نہ رہا۔ خطیب صاحب جوش میں بڑھتے ہوئے حاکم کے مکان پر پہنچ گئے۔ وہاں دروازہ کھٹکھٹایا۔ حاکم باہر آیا تو اس کو دیکھ کر خطیب صاحب نے حسب قرار داد بلند آواز سے کہا: یا حاکم جملک۔ ان کا خیال تھا کہ گاؤں والے ان کے پیچھے ہیں اور وہ سب مل کر امنعہ عنا کا نعرہ لگائیں گے۔ مگر ان کی امیدوں کے خلاف پیچھے سے کوئی آواز نہ آئی۔ وہ بار بار یا حاکم جملک کہتے رہے مگر پیچھے کوئی نہ تھا جو اس دوسرے جملہ کو دہرائے۔ حاکم نے پوچھا کہ آخر تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اب خطیب صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انہیں معلوم ہوا کہ وہاں کوئی بھی نہیں ہے۔ اس صورت حال سے وہ گھبرا اٹھے۔ انھوں نے اپنے سابق نعرے کو بدل دیا اور حاکم سے کہا: يحتاج الى الناقة (وہ اونٹنی چاہتا ہے)، یہ کہا اور فوراً واپس روانہ ہو گئے۔ تقریباً یہی حال بابری مسجد کی بازیابی کے لئے اجودھیا مارچ کے نعرہ کا ہوا ہے۔ نام نہاد قائدین نے اعلان کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی بازیابی کے لئے دو مارچ (۱۲ اگست، ۱۴ اکتوبر) کریں گے۔ انھوں نے اپنی پر جوش تقریروں میں کہا تھا کہ ملک بھر سے لاکھوں مسلمان "بابری مسجد لے کے رہیں گے" کا نعرہ لگاتے ہوئے اجودھیا پہنچیں گے اور بابری مسجد میں فاتحانہ داخل ہو کر وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader