حقیقت بے نقاب
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
عوام کی حمایت حاصل نہ ہوسکے گی۔ وہ دو طرفہ طور پر بے یار و مددگار ہوکر رہ جائیں گے۔ چنانچہ مسلم قائدین نے دوبارہ عافیت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ایودھیا مارچ کی تاریخ سے ایک دن پہلے اس کے التوا (صحیح تر لفظ میں خاتمہ) کا اعلان کر دیا۔ التوا کی آزمودہ تدبیر اختیار کر کے مسلم قائدین نے اپنی جان بچائی۔ مگر ۸ اکتوبر کے بندو کے نتیجہ میں جو تشدد پیدا ہوا اس میں سیکڑوں مسلم خاندان ان بربادی کا شکار ہو کر رہ گئے۔ بابری مسجد کا مسئلہ بدستور بدتر اند از میں باقی رہا۔ وہ مسلمانوں کی قبروں کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہ کر سکا۔ ایودھیا مارچ کی تاریخ سے کچھ پہلے میں نے ایک عام قسم کے مسلمان سے پوچھا: کیا ایودھیا مارچ ہوگا اس نے جواب دیا : "مولانا صاحب ، جان ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے"۔ مطلب یہ تھا کہ اب جب کہ ایودھیا مارچ کرنا اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنا ہے تو کون ہوگا جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو موت کے گڑھے میں ڈالے۔ مسلم عوام شروع میں اپنی سادہ گی اور نا سمجھی کی بنا پر " قائدین تحریک" کے ساتھ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قائدین کے جلسوں کی بھیڑ بڑا ھاکر وہ بابری مسجد کے مسئلہ کو حل کر لیں گے۔ مگر آخر میں انھیں نظر آیا کہ قائدین کی حقیقت پر شور ڈھول کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ نیز یہ کہ بابری مسجد کی طرف اقدام کرنے سے وہ صرف اپنے جان و مال کو کھوئیں گے ، اصل مسئلہ جیسا ہے بدستور ویسا ہی پڑا رہے گا۔ اس قسم کا مارچ صرف ملت کی بربادی میں اضافہ کرے گا نہ کہ اس کی آبادی میں۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد ، اگرچہ تاخیر سے ، مسلم عوام مسئلہ کی نوعیت کو سمجھ گئے۔ ان کے رویے سے صاف ظاہر ہوگیا کہ مارچ نہ ہونے کی صورت میں وہ قائدین تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اب "قائدین تحریک "اپنے آپ کو میدان میں اکیلا پا رہے تھے"۔ لاکھوں عوام " کی مفروضہ بھیڑ دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی جو ان کی تقریروں پر نعرہ لگائے اور اس طرح ان کی شان قیادت میں اضافہ کرے ۔ بے بسی اور تنہائی کا یہ منظر دیکھ کر انھوں نے الفاظ کا ایک مجموعہ مرتب کیا اور اس کو اخبار میں بھیج کر راتوں رات مارچ کے التوا کا اعلان کر دیا۔ یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آرہا ہے۔ یہ لطیفہ ایودھیا مارچ کے نعرہ پر پوری طرح چسپاں ہوتا ہے۔ مدینہ کے سفر (مارچ ۱۹۸۱) میں میری ملاقات ایک فلسطینی نوجوان سے ہوئی۔ ان کا نام مصطفیٰ تھا اور وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader