حقیقت بے نقاب
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
الٹ نتیجہ بابری مسجد کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک مکمل طور پر الٹا نتیجہ برآمد کرنے والی ثابت ہوئی ہے۔ اس کا یہ خطرناک نتیجہ نکلا ہے کہ ہندوؤں کے کٹر عنصر پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو کر باہم متحد ہوگئے ہیں اور مسلمانوں کے لئے سنگین ترین خطرہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ۱۳ نومبر ۱۹۸۸ء کا واقعہ ہے۔ میں بھوپال ائیر پورٹ پر دہلی کی فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ بھوپال کے ایک باشندہ مسٹر راج تیواری (عمر ۵۰ سال) نے اپنا ایک ذاتی تجربہ مجھے بتایا۔ وہ بزنس کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھیں ۲۲ اگست ۱۹۸۸ کو ویسٹ بنگال کے شہر بانکوڑا (Bankura) جانا پڑا۔ وہاں وہ پیشپک ہوٹل میں ٹھہرے، اس کے بغل میں ایک مندر تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ مندر کے اوپر ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس پر لکھا ہے : ضلع شیو سینا کاریا لیے، پچھچی بنگال راج تیواری صاحب نے کہا کہ میں اس بورڈ کو دیکھ کر رہا تھا کہ تقریباً ۷۰ سال کا ایک بوڑھا بنگالی وہاں آگیا۔ راج تیواری صاحب چونکہ بنگلہ زبان جانتے تھے اس لئے اسی زبان میں اس سے گفتگو ہوئی۔ بنگالی نے پوچھا کہ کیا دیکھ رہے ہو ۔ راج تیواری صاحب نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ مندر کے بازو میں یہ کیا کیسی ۔ بنگالی نے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے، انھوں نے اپنا نام اور پتہ بتایا۔ اس کے بعد بنگالی نے کہا کہ اندر آؤ۔ وہ راج تیواری صاحب کو اندر ایک کمرہ میں لے گیا جو دفتر کی مانند تھا اور کچھ لوگ وہاں کام کر رہے تھے۔ اس بنگالی کا نام پنکج مکرجی تھا۔ یہاں دیوار پر بہت سے ہندو لیڈروں کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ مثلاً شیواجی، رانا پرتاپ، ساورکر، ہیڈ گواڑ ، وغیرہ۔ یہ تمام تصویریں دو فٹ چوڑی اور دو فٹ لمبے سائز میں تھیں۔ ان کے درمیان ایک زیادہ بڑی قد آدم تصویر لگی ہوئی تھی جو دو فٹ چوڑی اور چار فٹ لمبی تھی۔ بقیہ تصویریں نصف حصہ جسم کی تھیں مگر بڑی تصویر سر سے پاؤں تک پورے قد کی تھی۔ راج تیواری صاحب نے غور کر کے اس تصویر کو پہچانا تو وہ سید شہاب الدین کی تصویر تھی۔ انھوں نے مذکورہ بنگالی سے پوچھا کہ سید شہاب الدین کی تصویر یہ یہاں کیوں لگی ہوئی ہے ۔ وہ تو آپ کے دشمن ہیں۔ مذکورہ بنگالی نے جواب دیا کہ بیٹے، یہ ہمارا دیوتا ہے۔ جو کام ہمارے دوسرے لیڈر ہزار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader