Urdu book · قیادت نامه

بربادی کے رہنما

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کی تعداد اب دس ہزار سے بھی زیادہ ہو چکی ہے ۔ مگر خود انھیں مسلم لیڈروں کے چھپے ہوئے بیانات کے مطابق ، ہر ایسے تصادم میں پولیس اور انتظامیہ نے ہمیشہ جانبدارانہ معاملہ کیا ہے ۔ یعنی وہ غیر مسلم فرقہ کو حفاظت دے کر مسلم فرقہ کے لوگوں کو یک طرفہ طور پر اپنے ظلم کا نشانہ بناتی ہے ۔ ( مثال کے طور پر میرٹھ اور ملیانہ کا واقعہ ، اپریل ۔ مئی ۱۹۸۷) ایسی حالت میں مسلم لیڈروں کا مذکورہ جواب اس حدیث رسول سے ٹکرار ہاہے کہ مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا (المومن لا يلدغ من جحر مرتين) جب ایک خطرناک بل کا دو بار تجربہ کرنا بھی ایمان کے خلاف ہو تو ایسی ایک معلوم بل کا دس ہزار بار تجربہ کرنا کیوں کر شریعت کے مطابق ہو سکتا ہے ۔ ۵ ۔ ایودھیا مارچ کے موقع پر پولیس اور انتظامیہ کا یہ متوقع کردار محض قیاس نہیں ہے ۔ وہ " مرشد آباد مارچ " کی صورت میں انتہائی بھیانک طور پر پیشگی سامنے آچکا ہے ۔ بنگال اور بہار کے مسلمان ، مقامی مسلم لیڈروں کی رہنمائی میں ، تقریباً ۵۰ ہزار کی تعداد میں ۴ جون ۱۹۸۸ کو مرشد آباد (مغربی بنگال) پہونچے تاکہ وہاں کی تریم کڑھ مسجد میں نماز جمعہ ادا کریں ۔ مگر خود مسلم لیڈروں کا بیان ہے کہ وہاں کی پولیس اور انتظامیہ نے جانتے بوجھتے ان نہتے مسلمانوں کو غیر مسلم فرقہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جنھوں نے نہایت بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کو اپنے خونخوار عزائم کا نشانہ بنایا ۔ مسلمان کڑھ مسجد تک پہونچ کر نماز بھی ادا نہ کر سکے ۔ ان میں سے کچھ لوگ راستہ ہی میں ہلاک ہو گئے ، اور کچھ لوگ لوٹ کرا ور زخمی ہو کر اپنے گھروں کو ناکام واپس لوٹ آئے ۔ جس پولیس اور انتظامیہ کے نکتے پن کا یہ تجربہ ہو ، اس کی حفاظت کے بھروسہ پر نہتے مسلمانوں کو تشدد پر آمادہ مجمع کے درمیان پھینکنا ، شریعت تو درکنار ، عقل عام (Common sense) کے بھی خلاف ہے ۔ بعض ہوشیار لیڈر کہتے ہیں کہ ان مواقع پر اگر کچھ مسلمان مارے جائیں تو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اس طرح ہمارا پروٹسٹ تو رجسٹر رہتا ہے۔ میں کہوں گا کہ اگر پروٹسٹ ہی رجسٹر کرنا مقصود ہے تو اس کے لیے عوام کو مروانا بے فائدہ ہے۔ پھر تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہمارے بے ریش اور بارش لیڈر نکلیں اور زبردستی خطرہ کے مقامات میں گھس کر لاٹھیاں اور گولیاں کھائیں اگر لیڈروں میں سے کچھ لوگ مریں اور ان کی لاشیں سڑکوں پر نظر آئیں تو ہمارا پروٹسٹ زیادہ جلی خط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page