بربادی کے رہنما
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
معلوم ہوا کہ نماز کی ادائیگی کے لیے دور کے بیرونی مقامات سے کوچ کر کے اجودھیا جانا اور وہاں کی بابری مسجد میں نماز ادا کرنے کی کوشش کرنا صراحۃً حدیثِ رسول سے ٹکراتا ہے ۔ اور جب کوئی عمل قرآن اور حدیث سے ٹکرائے تو یہی ٹکڑا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ ایک شرعی نوعیت کا مسئلہ ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے معاملہ میں شریعت سے رہنمائی حاصل کریں ، اور جو قدم اٹھائیں شریعت کی مطابقت میں اٹھائیں ۔ ۳۔ اجودھیا مارچ کسی خالی جزیرہ کی طرف مارچ نہیں ہے ۔ وہ ایسے مقام کی طرف مارچ ہے جہاں پہلے سے ایک طاقت ور فریق موجود ہے۔ اگر یہ مارچ ہوتا ہے تو ایک طرف مسلمان ہوں گے جو جلوس کی صورت میں سفر کر کے وہاں پہونچیں گے ۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو بابری مسجد پر غاصبانہ قبضہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے لیڈروں نے بار بار اعلان کیا ہے کہ مسلمان مکمل طور پر غیر مسلح حالت میں اجودھیا جائیں گے ۔ دوسری طرف قبضہ کرنے والے ہیں جن کا کھلا ہوا اعلان ہے کہ وہ مقررہ تاریخ کو تربیت یافتہ نوجوانوں کے دستے بہت بڑی تعداد میں اجودھیا میں اور اجودھیا کے باہر متعین کر دیں گے جو مسلمانوں کو بحبر بابری مسجد تک جانے سے روکیں گے۔ اور اگر مسلمان پھر بھی نہ مانیں تو وہ ان کو کچل کر رکھ دیں گے ۔ اس قسم کے غیر مساویانہ مارچ کے لیے کسی شاعری یا کسی خطیب کی خطابت میں تو جواز مل سکتا ہے ، مگر قرآن و سنت میں اس کے لیے کوئی جواز نہیں ۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے مخالفین سے مقابلہ کے وقت بچاؤ کا اہتمام کرو ( النساء ۷۱ ) ، اسی طرح قرآن میں حکم ہے کہ ایسی قوت فراہم کرو جو تمہارے دشمنوں کو ہیبت زدہ کر دینے والی ہو ( الانفال ۶۰ ) ان احکام کی روشنی میں دیکھیے تو مجوزہ مارچ اپنی موجودہ صورت میں خدائی ہدایات کے بالکل خلاف ہے ۔ کیوں کہ وہ ضروری تیاری کے بغیر کیا جانے والا ہے ، وہ عملی طور پر نہتی مسلم اقلیت کو ہتھیار بند غیر مسلم اکثریت سے ٹکرانے کے ہم معنی ہے ۔ ۴۔ مارچ کے ذمہ داروں کو مذکورہ نازک صورت حال کا بخوبی علم ہے ۔ تاہم ان کا جواب یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو اندیشہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ امن و نظم کو بحال رکھنا اور عوامی جلوس کو حفاظت مہیا کرنا حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے ، اور اس کو اسے انجام دینا چاہیے ۔ اجودھیا مارچ کے موقع پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جس تصادم کا یقینی اندیشہ ہے ، اس قسم کے فرقہ وارانہ تصادم ۱۹۷۲ سے اب تک بار بار مختلف شکلوں میں پیش آتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader