Urdu book · قیادت نامه

بربادی کے رہنما

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

ایودھیا کی مسجد میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور اس کے قابض لوگ نہایت شدت کے ساتھ مزاحمت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حدیبیہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ان کو حکم ملا کہ عمرہ ادا کیے بغیر مدینہ واپس چلے جاؤ۔ اس حکم کی مصلحت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ مسلمان اگر اقدام پر اصرار کرتے تو جنگ کی نوبت آتی اور اس میں بہت سے مسلمان ناحق مارے جاتے (الفتح ۲۴-۲۵) گویا اگر مسلمانوں کی جان کا خطرہ ہو تو حرم مکہ جیسی مقدس مسجد کی طرف " مارچ " کرنا بھی غیر مطلوب ہو جاتا ہے ۔ مسلمان کی جان کی حفاظت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے ( ملاحظہ ہو الرسالہ اگست ۱۹۸۸، صفحہ ۱۲-۱۵) اس مثال کی روشنی میں دیکھیے تو ایودھیا مارچ میں نہ صرف مسلمانوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہے بلکہ اس میں پیش آنے والا جانی و مالی نقصان اس نقصان سے بہت زیادہ ہے جو حدیبیہ کے وقت متوقع تھا ۔ حدیبیہ کے موقع پر پیش آنے والا نقصان تمام تر مقامی ہوتا۔ مگر آج جو حالات ہیں، ان کی روشنی میں یقینی ہے کہ ایودھیا مارچ کی صورت میں ہونے والا نقصان صرف ایودھیا تک محدود نہیں رہے گا ، بلکہ یقینی طور پر وہ پھیلے گا ۔ اس کے نتیجہ میں پورے ملک کی فضا خراب ہوگی ۔ جگہ جگہ فرقہ وارانہ فساد ہوں گے ۔ اور حسب سابق مسلمان ہی ہر بار تباہی و بربادی کا نشانہ بنیں گے۔ اس عمومی بربادی میں مسلمانوں کے صرف ایک گروہ کا استثناء ہوگا ۔ اور وہ ان بے ریش اور باریش رہنماؤں کا ہے جو مسلمانوں کو آگے کر کے خود ان سے الگ ہو جائیں گے ۔ ان میں سے کوئی " جنرل " بن کر اپنے دفتر میں بیٹھ رہے گا ، اور کوئی کسی بیرونی ملک کی کانفرنس میں شرکت کے لیے پرواز کر جائے گا۔ اس طرح سیاسی لیڈر اور ان کے حق میں اجازت نامہ جاری کرنے والے علماء یقینی طور پر محفوظ رہیں گے۔ مگر عام مسلمان اتنے سخت مصائب سے دوچار ہوں گے جن کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ۸ ۔ ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ایودھیا مارچ اگرچہ بظاہر ایودھیا کی طرف ہوگا ، مگر اس کا اصل نشانہ نئی دہلی ہے۔ یہ نماز کی ادائیگی کا مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ اپنے دستوری حق کے استقرار کا مسئلہ ہے۔ بابری مسجد کی حیثیت محض علامت کی ہے۔ ورنہ اصل لڑائی اس بات کی ہے کہ دستور ہند میں جو مذہبی حقوق دیئے گئے ہیں ، ان کو تسلیم کیا جائے اور حکومت اس بات کی ضامن بنے کہ دستور میں دیئے ہوئے کسی حق کو پامال نہیں کیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page