Urdu book · قیادت نامه

بربادی کے رہنما

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مصلحت بھی ایک خود ساختہ مصلحت ہے جو سنتِ رسول سے واضح طور پر ٹکراتی ہے۔ یہاں میں دوبارہ حدیبیہ کی مثال دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ 6 ھ میں مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر کعبہ کی زیارت کریں اور عمرہ کے مراسم ادا کریں۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو اہل مکہ (قریش) نے روکا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ عمرہ کیے بغیر مدینہ واپس جائیں۔ قریش کا یہ فعل سراسر دستورِ عرب کے خلاف تھا۔ عرب میں یہ مسلمہ دستور تھا کہ کوئی شخص کعبہ کی زیارت کے لیے آئے تو اس کو روکا نہ جائے۔ چنانچہ ساری قدیم تاریخ میں کبھی کسی کو زیارتِ کعبہ سے روکا نہیں گیا تھا۔ یہ دستوری حق اتنا زیادہ قطعی اور مسلم تھا کہ جب سردارانِ قریش نے آپ کو روکا تو خود مشرکوں میں کچھ ایسے لوگ نکلے جنھوں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مثلاً حلیس بن علقمہ (سید الاحابیش) جو قریش کا حلیف تھا، اس نے غضہ ہو کر کہا : یا معشر قریش واللہ ما علی هذا حلافنا کم اے قریش کے لوگو، خدا کی قسم، ہم اس بات پر ولا على هذا عاهدناكم - أَيُصَدُّ عن بيت تمہارے حلیف نہیں بنے تھے اور نہ اس بات پر ہم الله من جاءہ معظمّاله - والذي نفسُ نے تم سے معاہدہ کیا تھا۔ کیا اُس شخص کو بیت اللہ الحليس بيده لتخلّن بين محمد وبين سے روکا جانے لگا جو بیت اللہ کی زیارت کے لیے ما جاء له او لا تنفرنّ بالاحابیش نفرةً اور اس کی تعظیم کے لیے آیا ہو۔ قسم ہے اس ذات رجل واحد - کی جس کے قبضہ میں حلیس کی جان ہے، تمہیں محمد (سیرہ ابن کثیر، المجلد الثالث ، صفحہ ۳۱۶ ) اور وہ جس کام کے لیے آئے ہیں، اس کے درمیان سے ہٹنا ہوگا ، ورنہ میں تمام حبشیوں کو لے کر یک لخت تم سے الگ ہو جاؤں گا۔ اس قسم کی بات کچھ اور مشرکوں نے بھی کہی۔ مگر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنے " دستوری حق " کا سوال نہیں اٹھایا۔ اور نہ یہ کہہ کر اس کو اہم بنانے کی کوشش کی کہ یہ ایک علامتی واقعہ ہے ، ہم کو " گر بہ کشتن روز اول " کے اصول پر عمل کرنا چاہیے ۔ ورنہ آج عمرہ کے بارہ میں ہمارا دستوری حق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ کل ہم کو حج کے حق سے محروم کیا جائے گا ۔ اور پھر حقوق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page