Urdu book · قیادت نامه

بربادی کے رہنما

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

حق بات کہنا اپنے کو اپنی قوم کے اندر نکو بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے ، اور کون ہے جو نکو بننے کی قیمت پر حق بات کا اعلان کرے ۔ ایسا حق پرست تو خود مسلمانوں میں بھی کوئی نہیں ، پھر ہندوؤں کے بارہ میں ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ان میں ایسے حق پرست جھنڈے کے جھنڈ موجود ہوں گے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ صحافتی تاجروں اور سیاسی استحصال پسندوں کی شکار گاہ بنے ہوئے ہیں ۔ آج مسلمانوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہیں اس دلدل سے نکالا جائے ۔ ۱۔ تاہم ان چیزوں سے قطع نظر، بنیادی بات یہ ہے کہ مذکورہ قسم کے تمام اندیشے ایمانی تقاضے کے سراسر خلاف ہیں۔ کیوں کہ کسی معاملہ میں جب خدا اور رسول کا فیصلہ معلوم ہو جائے تو وہی خیر اور مصلحت کی بات ہے ۔ اس کے بعد عقلی نکتے نکالنا اور کسی دوسری چیز کو ملی مصلحت بتانا مجرمانہ سرکشی کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : کسی مومن مرد یا کسی مومن عورت کے لیے گنجائش نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کر دیں تو پھر ان کے لیے اس میں اختیار باقی رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا (الاحزاب ۳۶) مسلمان اگر خدا و رسول پر ایمان رکھتے ہیں تو انہیں خدا و رسول کی رہنمائی کو بے چون و چرا مان لینا ہوگا۔ ان کے لیے فلاح و سعادت کا اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ خدا اور رسول نے جس مصلحت کا لحاظ کیا ہو، وہی صحیح اور معتبر مصلحت ہے۔ دوسری کوئی مصلحت صحیح اور معتبر مصلحت نہیں، خواہ بظاہر وہ ہم کو کتنی ہی زیادہ اہم دکھائی دیتی ہو ۔ اس سلسلہ میں محدث کبیر حضرت امام مالک کا یہ قول یاد دلانا کافی ہوگا : لن يصلح آخر هذه الامة الا بما صلح به اولها ( اس امت کا آخر بھی صرف اسی سے درست ہوگا جس سے اس کا اول درست ہوا) اوپر جو باتیں عرض کی گئیں ، وہ دو اور دو چار کی طرح یہ ثابت کرتی ہیں کہ ایودھیا مارچ یا بابری مسجد تحریک بلاشبہ ان مسائل میں سے ہے جن کا تعلق شریعت سے ہے ، اور مسلمانوں کو اس معاملہ میں لازمی طور پر شریعت کی رہنمائی میں عمل کرنا چاہیے ، اس سے آزاد ہو کر نہیں۔ اگر انھوں نے اس معاملہ میں آزادانہ عمل کیا تو یقیناً وہ اس کے لیے خدا کے نزدیک مجرم قرار پائیں گے ۔ کسی بزرگ کو یہ حق نہیں کہ وہ اس معاملہ کو غیر شرعی معاملہ قرار دے ، اور نہ کسی بزرگ کا دیا ہوا سرٹیفکیٹ اس معاملہ میں انھیں خدا کی پکڑ سے بچانے والا ثابت ہو سکتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page