Urdu book · قیادت نامه

بربادی کے رہنما

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

باقاعدہ دینی مدرسے قائم ہیں ۔ اور پنج وقتہ نمازیں جماعت کے ساتھ ہو رہی ہیں ۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجئے کہ یہ اعلیٰ کامیابیاں صرف اس لیے ممکن ہوئیں کہ اس جدوجہد میں پیشہ ور لیڈروں سے کسی لیڈر کو شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ سیاسی اشو بنانے اور قومی پرستیج کی حیثیت دینے سے پہلے خود بابری مسجد کے معاملے میں بھی اس خاموش اور حکیمانہ حل کا امکان پوری طرح موجود تھا۔ اس کی ایک مثال ۲ مارچ ۱۹۸۷ کی وہ مشترکہ میٹنگ ہے جس کی روداد الرسالہ جولائی ۱۹۸۸ میں شائع ہو چکی ہے۔ یہ صرف نام نہاد مسلم لیڈر ہیں جنھوں نے بابری مسجد کو قیاستی استحصال کا ذریعہ بنا کر اس قیمتی امکان کو برباد کیا۔ بابری مسجد کے معاملے کو بگاڑنے کے اصل ذمہ دار مسلمان لیڈر ہیں۔ اگر چہ انھوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اس کا رُخ دوسروں کی طرف موڑ دیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ابتدا میں ہندوؤں کی بیشتر تعداد اس معاملے میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کی حامی تھی ۔ تھوڑے سے کٹر ہندوؤں کے سوا کسی کو اس سے دل چسپی نہ تھی۔ اس کا ایک ثبوت ہندو اہل علم کے وہ منصفانہ مضامین ہیں جو ملک کے اخبارات و رسائل میں کثرت سے شائع ہو رہے تھے (ملاحظہ ہو الرسالہ ، دسمبر ۱۹۸۶ ، صفحہ ۱۷-۲۲) نئی دہلی میں بابری مسجد ریلی (۳۰ مارچ ۱۹۸۶) کے بعد یہ فضا بدلنا شروع ہوئی۔ مسلم لیڈروں کی احمقانہ سیاست بازی معاملے کو بگاڑتی چلی گئی ۔ پہلے یہ مسئلہ سادہ طور پر معقولیت اور غیر معقولیت کے درمیان کا مسئلہ تھا۔ مگر بعد کو بڑھتے بڑھتے وہ ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کا مسئلہ بن گیا۔ اس نے دونوں گروہوں کے لیے فرقہ وارانہ عصبیت یا قومی ساکھ (Prestige) کی صورت اختیار کر لی۔ اس نوبت کو پہونچنے کے بعد مسلمان اس معاملے میں اکیلے ہو گئے ۔ انھوں نے ہندوؤں کی وہ حمایت کھودی جو ابتدا میں انھیں وسیع پیمانہ پر حاصل تھی (ملاحظہ ہو الرسالہ جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱-۳۲) بابری مسجد کا مسئلہ اپنی ابتدائی صورت میں ایک محدود مقامی مسئلہ تھا۔ مگر مسلمانوں کے سطحی لیڈروں نے اپنی ناقابل بیان نادانیوں کے ذریعہ انتہائی غلط طور پر اس کو ایک ملکی اور قومی مسئلہ بنا دیا۔ جب کوئی مسئلہ اس نوبت تک پہونچ جائے تو اس وقت معقولیت پس پشت چلی جاتی ہے ۔ اور صرف گروہی عصبیت ہی قوموں کی رہنما کی حیثیت سے باقی رہتی ہے ۔ ایسے وقت میں قوم کے کسی فرد کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page