بربادی کے رہنما
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک انتباہ بیسویں صدی میں مسلمانوں نے بار بار ایسا کیا ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں کو اپنے ملی معاملات میں رہنما بنا لیتے ہیں۔ یہ مزاج اب اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ مسجد اور نماز جیسے امور میں بھی سیاسی لیڈر ہی ان کے رہنما اور نمائندے بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ فعل ان کے تمام جرموں میں سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اپنے اس مزاج کو لازمی طور پر انہیں بدلنا ہوگا ورنہ شدید اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی نصرت سے محروم ہو جائیں ، اور پھر اس دنیا میں کوئی ان کا حامی و مددگار نہ رہے۔ ایک تاجر کو اپنی دکان کے لیے سیلزمین کا انتخاب کرنا ہو تو وہ کبھی کسی دادا کو اپنی دکان کا سیلزمین نہیں بنائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کامیاب سیلزمین میں جو سب سے ضروری صفت درکار ہے وہ میٹھا بول ہے ، جب کہ دادا گیری کے پیشہ میں ، اس کے برعکس ، کڑوا بول سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ دادا کڑوے بول کا ماہر ہوتا ہے ، اس لیے وہ ایسے منصب کے لیے قطعاً موزوں نہیں جہاں میٹھا بول سب سے زیادہ مطلوب خصوصیت کی حیثیت رکھتا ہو۔ مسلمان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک داعی گروہ ہیں ۔ ان پر لازم ہے کہ ان کی تمام سرگرمیاں دعوت رخی (Dawah oriented) ہوں۔ وہ ہر دوسری مصلحت پر دعوت کی مصلحت کو غالب رکھیں ۔ سیاسی لیڈر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کا پورا فکر سیاست رخی (Politics oriented) ہوتا ہے۔ وہ سیاسی مصلحت کو ہر دوسری مصلحت پر غالب رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جیسے گروہ کی نمائندگی کے لیے سیاسی لیڈر کسی طرح بھی موزوں اور مناسب نہیں ۔ داعی اور لیڈر دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف شخصیتیں ہیں۔ داعی ایجابی نفسیات کی پیداوار ہے اور لیڈر ردعمل کی نفسیات کی پیداوار ۔ داعی محبت کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے اور لیڈر نفرت کی زمین پر ۔ داعی دوسروں کو اپنے مطلوب کی نظر سے دیکھتا ہے اور لیڈر دوسروں کو اپنے حریف کی نظر سے ۔ داعی کا مفاد دوسروں کے ساتھ مصالحت میں ہوتا ہے اور لیڈر کا مفاد دوسروں کے ساتھ ٹکراؤ میں ۔ داعی حقائق کو مرکز تو جہ بناتا ہے اور لیڈر شورشوں کے پیچھے دوڑتا ہے۔ داعی خدا کی مرضی پر چلتا ہے اور لیڈر عوامی خواہشات پر ۔ داعی کا مقصد لوگوں کا دل جیتنا ہے اور لیڈر کا مقصد لوگوں کا استحصال کرنا ۔ داعی کی نظر اصل کام پر ہوتی ہے اور لیڈر کی نظر شہرت اور مقبولیت پر ۔ خلاصہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader