اصل مسئلہ
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد انکوائری کا ونٹر کی غیر مسلم خاتون نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا : "مولانا صاحب، ان لوگوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ بہن بھائیوں پر ویڈیو کا بھوت سوار ہے ۔ مسلمان اسلام کو اپنے عملی رخ کے ذریعہ ذبح کر رہے ہیں تو مالک کائنات مدعو اقوام کے ذریعہ مسلمانوں کو ذبح کر رہا ہے۔ عبدالسلام خاں ، مائنگ انجینیر، سرکلر روڈ، چند واڑہ ۲۸۰۰۰۱ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو بتا رہی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مزاج کیا ہے۔ وہ مزاج ہے ۔ خلاف مزاج بات کو برداشت نہ کرنا۔ مسلمانوں کا عدم برداشت کا مزاج اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ معمولی اختلافی بات پر بگڑ جاتے ہیں ۔ اپنی خواہش کے خلاف کوئی ذرا سی بات ہو تو فوراً لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔ ہر بار جب کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کے اسی بگڑے ہوئے مزاج کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ مسلمان دنیا کی سب سے زیادہ جھگڑالو قوم ہیں۔ ان کا یہ جھگڑا جب آپس میں ہو تو وہ انفرادی واقعہ بن کر رہ جاتا ہے، وہ عمومی فساد کی صورت اختیار نہیں کرتا ۔ مگر جب اس جھگڑے کا ایک فریق مسلمان اور دوسرا فریق ہندو ہو تو وہ فوراً عمومی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کی یہ حالت صرف ہندوستان میں نہیں ہے۔ ان کا یہی حال، بلکہ اس سے بھی زیادہ بدتر حال پاکستان میں ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کہ پاکستان کے مسلمان معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑ نہ جاتے ہوں ۔ بات کی وضاحت کے لیے یہاں میں صرف ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں ۔ کراچی کا واقعہ ہے ۔ ۱۹ جولائی ، ۱۹۸۷ء کی رات کو کچھ مسلم نوجوان ایک منی بس میں سفر کر رہے تھے۔ سفر کے دوران ان کے اور کنڈکٹر کے درمیان تکرار ہو گئی۔ نوجوانوں نے کنڈکٹر پر حملہ کر دیا۔ بس رک گئی۔ اس کے بعد پولیس آئی ۔ پولیس نے دخل دے کر معاملہ کو ختم کر دیا۔ مگر نوجوانوں کا غصہ ختم نہیں ہوا۔ اس وقت وہ چلے گیے اس کے بعد انھوں نے پولیس کی زیادتی کی داستان سنا کر اپنی قوم کے مزید نوجوانوں کو بھڑکایا۔ اور ایک بھیڑ جمع کر کے ۲۱ جولائی کو کراچی کے اس تھانہ پر حملہ کر دیا۔ جہاں کی پولیس نے دخل دے کر معاملہ کو ختم کیا تھا۔ اس "حملہ" میں ایک پولیس افسر شدید طور پر زخمی ہوا۔ اور دو پولیس کانسٹیبل مارے گیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader