اصل مسئلہ
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
اب پولیس مشتعل ہو گئی۔ اس نے لوگوں کے اوپر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے نتیجہ میں بیس آدمی سخت زخمی ہو گئے۔ ان زخمی ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل تھے۔ کئی موتیں بھی واقع ہوئیں (ٹائمز آف انڈیا ۲۳ جولائی ۱۹۸۷ء) یہ بات میں نے ایک مسلمان لیڈر سے کہی تو وہ بگڑ گئے۔ انھوں نے تیز و تند لہجے میں کہا: یہ جھوٹ ہے۔ مسلمان کبھی فساد نہیں کرتا۔ آپ مسلم دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اس لیے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں آپ کو اپنی یہ بکواس بند کرنی پڑے گی، ورنہ مسلمان آپ کو سبق پڑھانے پر مجبور ہوں گے۔ میں نے نرمی کے ساتھ جواب دیا: میرے بھائی! آپ نے خود ہی میرے دعوے کا ثبوت فراہم کر دیا۔ آپ نے اس وقت جو انداز اختیار فرمایا ہے، اسی کا نام اشتعال انگیز رد عمل ہے اور یہ اشتعال انگیز رد عمل ہی تمام فرقہ وارانہ فسادات کی اصل جڑ ہے۔ آپ اور آپ جیسے دوسرے مسلمان باہمی معاملات میں سنجیدہ انداز اختیار کرنا نہیں جانتے، اسی سے معمولی واقعہ فساد بن جاتا ہے۔ اگر آپ لوگ سنجیدہ اور مثبت انداز اختیار کرنا سیکھ لیں تو تمام فسادات کی جڑ کٹ جائے ۔ یک طرفہ اقدام کی ضرورت ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں یہ بات تقریباً ثابت شدہ ہے کہ اس کا آغاز ہمیشہ کسی مسلمان کی اشتعال انگیز کارروائی سے ہوتا ہے۔ یہ معاملہ ابتداً ایک ہندو اور ایک مسلمان کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کے بعد خود مسلمانوں ہی کے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ یہ انفرادی واقعہ بہت جلد قومی واقعہ بن جاتا ہے۔ دو فرد کا فساد دو قوم کے فساد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اب ہندو چونکہ اس ملک میں طاقت ور پوزیشن میں ہے، اس کا رد عمل مسلمان کے حق میں بہت ہولناک ثابت ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو ایک کے بدلے میں ایک سو کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ فساد کے نتائج کو اگر صرف کمیت اور اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہندو ظالم نظر آئیں گے اور مسلمان مظلوم۔ مگر میں اس تقسیم کو صحیح نہیں سمجھتا۔ اس لیے کہ قرآن کی رو سے اصل مجرم وہ ہے جو آغاز کرے (وہم بدو کم اول مرۃ) اسی لیے کہا گیا ہے کہ شروع کرنے والا زیادہ بڑا ظالم ہے ( البادی اظلم، تفسیر النسفی، الجزء الثانی، صفحہ ۱۱۸) شروع کرنے والا شخص روایت کو توڑتا ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader