اصل مسئلہ
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
دکان دار اور گاہک میں جھگڑا ہو اور دونوں کے درمیان دوری پیدا ہو جائے تو زیادہ بڑا لوزر (کھونے والا) کون ہوگا۔ واضح ہے کہ ایسی صورت میں زیادہ بڑا لوزر دکان دار ہوگا۔ اس لیے دکاندار ہی کو یہ ذمہ داری لینی پڑتی ہے کہ وہ اپنے اور گاہک کے درمیان دوری کے اسباب پیدا نہ ہونے دے۔ اگر بالفرض دوری کا کوئی سبب پیدا ہو جائے تو وہ یک طرفہ طور پر اس کو ختم کرے۔ یہ ایک دنیوی مثال ہے۔ یہی مثال آخرت کے معاملہ کی بھی ہے۔ مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان جھگڑا اور تناؤ پیدا ہو تو زیادہ بڑا لوزر یقینی طور پر مسلمان ہوگا۔ کیوں کہ اس دوری کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے مدعو کو کھورہا ہے۔ جب کہ مسلمان کے عقیدے کے مطابق ، مدعو اس کے لیے تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ دعوتِ کامل اس کو انصار اللہ کا درجہ عطا کرتا ہے۔ دعوتِ کامل اس کو پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل کرتا ہے۔ اس لیے مسلمان ہی کو یہ ذمہ داری لینی ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان تناؤ پیدا نہ ہونے دے اور اگر کسی وقت تناؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو یک طرفہ طور پر اس کو ختم کر دے ۔ اصل مسئلہ اس دنیا کا ایک خالق اور مالک ہے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک خاص منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے۔ وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کو موجودہ دنیا کے حالات میں رکھ کر آزمانے ۔ اور پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کرے (الملک ۲) یہی وہ حقیقت ہے جس سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے تمام پیغمبر آئے (رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ) مگر پہلے پیغمبروں کی تعلیمات کو ان کی امتیں ضائع کرتی رہیں۔ آخر میں اسی انذار و تبشیر کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ آپ جو تعلیم لائے اس کو اللہ تعالی نے اپنی اصلی حالت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ قرآن میں یہی ابدی دین اپنی محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اب انسان کی نجات کا انحصار اسی محفوظ دین کو اختیار کرنے پر ہے جس کا نام اسلام ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (آل عمران ۸۵)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader