Urdu book · قیادت نامه

اصل مسئلہ

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

ختمِ نبوت کے بعد مسلمان مقامِ نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی یہ منصب ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کو اس حقیقت سے باخبر کریں تاکہ بھٹکی ہوئی قوموں پر نجاتِ آخرت کا دروازہ کھلے۔ اور جو لوگ معلوم ہو جانے کے باوجو د خدا کی ہدایت کو اختیار نہ کریں ان پر یہ گواہی قائم ہو جائے کہ انھیں حقیقتِ واقعہ سے باخبر کر دیا گیا تھا (لیکون الرسول شهیدا علیکم وتکونوا شهداء علی الناس، الحج (۸) یہ ذمہ داری اتنی اہم ہے کہ اس کو ادا نہ کرنے کی صورت میں خود یہ معاملہ مشتبہ ہو جاتا ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے یہاں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی قرار پائیں گے یا نہیں۔ اس حقیقت کی روشنی میں غور کیجئے تو مسلمانوں کے ساتھ اس ملک میں جو کچھ پیش آ رہا ہے وہ اسی خدائی ڈیوٹی سے غفلت کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں نے دوسری قوموں کو خدائی پیغام سے آگاہ کرنے کا کام انجام نہیں دیا۔ اس لیے اب خدائی قانون کے مطابق ان کی تنبیہ کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کے بارے میں آگاہ ہو جائیں۔ جب بھی اس ملک میں کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے اور مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھ سے مارے جاتے ہیں تو ہمیشہ اس سے ایک آواز سنائی دیتی ہے ۔ " قال " کی زبان میں نہیں، بلکہ " حال " کی زبان میں ۔ وہ آواز یہ ہوتی ہے : تم نے ہماری آخرت کو برباد کیا، ہم تمھاری دنیا کو برباد کریں گے مسلمانوں کے پاس خدا کے محفوظ دین کی امانت ہے۔ مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ اس ملک کے تمام انسانوں کو اس نازک حقیقت سے باخبر کریں۔ وہ اس کو لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں لوگوں تک پہنچائیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ صدیاں گزر گئیں مگر مسلمانوں کے درمیان اس مقصد کے لیے کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی کہ وہ اس حقیقتِ ربانی سے لوگوں کو آشنا کریں۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے یہ کیا کہ انھوں نے لوگوں سے نفرت کی۔ انھوں نے لوگوں کو حقیر سمجھا۔ وہ لوگوں کی ذرا ذرا سی بات پر اشتعال ہو کر ان سے لڑائی چھیڑتے رہے۔ انھوں نے اپنے اور ان کے درمیان مصنوعی تشخصات کی دیواریں کھڑی کیں۔ اس کے نتیجہ میں لوگ مسلمانوں سے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے دین سے بیزار ہو گئے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان وہ معتدل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page