Urdu book · قیادت نامه

اصل مسئلہ

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

فضا باقی نہ رہی جس میں دوسرے لوگ مسلمانوں کے دین پر غور کریں اور اس کے بارے میں ٹھنڈے ذہن کے ساتھ فیصلہ کر سکیں۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ تھا۔ داعی ایک کامیاب دکاندار کی طرح، یک طرفہ اخلاقیات پر کھڑا ہوتا ہے۔ داعی اپنے آپ کو اس کا پابند بناتا ہے کہ وہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی تلخیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرے گا۔ مدعو اگر کوئی برا سلوک کرے تب بھی وہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا، تاکہ دونوں کے درمیان کہنے اور سننے کا ماحول برباد نہ ہونے پائے۔ مگر مسلمان اس داعیانہ اخلاق پر قائم نہ رہ سکے۔ مسلمانوں نے لوگوں سے ان کی آخرت چینی تھی، اب لوگ ان سے ان کی دنیا چھین رہے ہیں۔ لوگ اپنے ظلم سے صرف اس وقت باز آئیں گے جب کہ ہم اپنے ظلم سے باز آئیں۔ اس سے پہلے یہ سلسلہ بند ہونے والا نہیں ۔ خدا کی تنبیہہ مسلمانوں کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ ہندو کا ظلم نہیں بلکہ وہ خدا کی تنبیہہ ہے۔ جو آدمی اس میں شک کرے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے دیا کم از کم یہ کہ وہ قرآن و حدیث سے بالکل نا واقف ہے۔ مسلمانوں کے مسئلہ کی جڑ یہ ہے کہ انھوں نے خدا کے بندوں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو خدا کے حکم کے سراسر خلاف تھا۔ مسلمان اپنے دورِ اقتدار میں ہندوؤں کو حقیر سمجھتے رہے ۔ اور اب جب کہ ان کے پاس اقتدار نہیں ہے تو وہ ہندوؤں کو اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں ۔ یہ دونوں ہی باتیں یکساں طور پر جرم کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ہندو قوم مسلمانوں کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمان داعی ہیں اور ہندو مدعو ہیں۔ ہندو کی نسبت سے مسلمان کے اوپر سب سے پہلا اور سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ اس کو خدا کے دین کا پیغام پہنچائیں ۔ اپنے اور ہندو قوم کے درمیان ناصحانہ فضا قائم کرنے کے لیے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ ہندو کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کریں۔ جس طرح مسلمانوں پر دعوت فرض ہے، اسی طرح دعوت کی خاطر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page