Urdu book · قیادت نامه

حکیمانہ طریقہ

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

سیکڑوں آدمیوں کو ہتھیار ہونے سے بچالیا ۔ ایک اور ہندو نے کہا کہ جس شخص نے مسجد میں خنزیر ڈالا وہ بہت گرا ہوا انسان ہے ۔ جو شخص عبادت خانہ کو گزند کرے اس سے زیادہ بر آدمی اور کوئی نہیں۔ وغیرہ۔ حاجی صاحب نے اعتراض اور حکمت کے طریقہ کو اختیار کر کے پوری بستی کو تباہی و بربادی سے بچالیا۔ اگر وہ خنزیر بر کو دیکھ کر مشتعل ہو جاتے تو یقیناً یقینی طور پر فساد کی نذر ہو جاتا۔ معین الدین صاحب سے میں نے پوچھا کہ اس معاملہ میں عام مسلمانوں کا رد عمل کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ خبر پھیلی تو مسلمان ادھر ادھر سے آکر مسجد میں جمع ہونے لگے۔ گیارہ بجے تک ہزاروں کی تعداد میں مسلمان وہاں آچکے تھے۔ وہ لوگ سخت غصہ میں تھے اور حاجی اسرار الحق صاحب کے اوپر بری طرح برس رہے تھے۔ کچھ لوگ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کچھ باقی قاعدہ گالی دے رہے تھے ۔ ساری باتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ تم بزدل ہو، تم پست ہمت ہو۔ تم نے کیوں خنزیر کو غائب کیا۔ اگر وہ ہمارے پاس موجود ہوتا تو آج ہم انھیں بتادیتے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ یہ بزدلی اور بہادری کا وہ معیار ہے جو مسلمانوں کی قومی شریعت میں پایا جاتا ہے۔ خدا کی شریعت کا معیار اس سے مختلف ہے۔ خدا کی شریعت کا معیار حدیث میں اس طرح بتایا گیا ہے : عن أبي هريرة ، قال رسول الله صلی اللہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم: ليس الشديد بالصرعة۔ انما علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں ہے جو کشتی میں الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب کسی کو پچھاڑ دے۔ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ (متفق عليه) مذکورہ حدیث بہادری کا یہ معیار بتاتی ہے کہ آدمی غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہو۔ اشتعال انگیزی کے باوجود وہ اشتعال میں نہ آئے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے نزدیک بہادری یہ ہے کہ کوئی شخص اگر غصہ دلانے والا فعل کرے تو وہ بھڑک کر اس سے لڑنا شروع کر دیں۔ مسلمان ایسے واقعات کو قومی وقار کا مسئلہ بنالیتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ فوراً فریق مخالف سے لڑ جاتے ہیں۔ اگر وہ اس کو شرعی نگاہ سے دیکھیں تو وہ وہی کریں جو مذکورہ حاجی صاحب نے ایسے موقع پر کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page