Urdu book · قیادت نامه

حکیمانہ طریقہ

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

حکیمانہ طریقہ معین الدین صاحب (پیدائش ۱۹۵۶) بگہا (ضلع چمپارن) کے رہنے والے ہیں۔ ۴ اگست ۱۹۸۸ کی ملاقات میں انھوں نے اپنے یہاں کا ایک واقعہ بتایا جو بے حد سبق آموز ہے۔ بگہا کی جامع مسجد کا نام جامعہ انوار ہے۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ کی رات کو کسی شخص نے خنزیر کاٹ کر اس کا سر مسجد کے اندر رسائبان والے حصے میں ڈال دیا۔ صبح کے وقت جب لوگ نماز فجر کے لئے آئے تو نماز کی ادائیگی کے بعد ایک شخص (ارمانی خاں) نے اس کو دیکھا۔ اس وقت بگہا کے امیر تبلیغ حاجی اسرار الحق صاحب حسب معمول نمازیوں کو بیٹھا کر تعلیم کر رہے تھے۔ ارمانی خاں نے واقعہ کی خبر دی تو وہ فوراً اٹھ کر مقام واردات پر آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ واقعہ خنزیر کا کٹ ہوا سر مسجد کے اندر پڑا ہے۔ حاجی اسرار الحق صاحب جو الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، انھوں نے شور و غل کرنے کے بجائے یہ کیا کہ فوراً اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھا لیا۔ پھر موذن کے ہمراہ وہ تیزی سے اس کو لے کر باہر نکلے اور لے جاکر بیت الخلا کے کنویں (بورنگ) کے اندر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ مسجد میں آئے اور پانی سے اچھی طرح دھو کر مسجد کو صاف کر دیا۔ اس کے بعد حاجی صاحب ڈاکٹر ایم یوحنان سے ملے۔ انھوں نے حاجی صاحب کی کارروائی سے اتفاق کیا۔ دونوں مقامی تھانہ میں گئے۔ وہاں انھوں نے پولیس کو پورے واقعہ کی خبر دے دی۔ تھانہ والوں نے حاجی صاحب کی بہت تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ہمارے اوپر پہاڑ اتنا بڑا بوجھ تھا، آپ نے اس کو ہمارے سر سے ٹال دیا۔ بگہا کے مہتر خنزیر پالتے ہیں اور اس کا کاروبار کرتے ہیں۔ پولیس والے مہتروں کی بستی میں گئے اور ان کو سخت ڈانٹ ڈپٹ کی۔ تاہم اصل مہتر جس کے کہنے پر یہ کارروائی کی تھی، وہ رات ہی کو بھاگ کر نیپال چلا گیا۔ معین الدین صاحب نے بتایا کہ خبر سن کر بڑی تعداد میں مسلمان مسجد میں جمع ہوگئے اور انھوں نے حاجی صاحب کو برا بھلا کہا۔ مگر ساری بستی کے ہندوؤں نے ان کی تعریف کی۔ مثلاً ایک ہندو دکاندار نے کہا کہ حاجی صاحب نے وہ کام کیا ہے جو مہان آدمی کیا کرتا ہے۔ انھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page