Urdu book · قیادت نامه

ناقص تجزیہ

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

ناقص تجزیہ ایک مشہور عالم اور قائد نے اپنی خود نوشت سوانح عمری شائع کی ہے۔ اس میں وہ "الغار خلافت کا منحوس اقدام" کے زیر عنوان لکھتے ہیں: "خلافت، ایک دینی منصب اور اس کا قائم رکھنا مسلمانوں کا دینی فریضہ تھا۔ قرون اولیٰ کے مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمانوں کی زندگی کا کوئی مختصر سے مختصر وقفہ بھی خلیفۃ المسلمین کی موجودگی کے بغیر گزر سکتا تھا...... لیکن بالآخر جو منصب جلیل وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے کسی نہ کسی شکل میں اس وقت تک چلا آرہا تھا، اور عثمانیوں نے اپنی ساری کمزوریوں اور بہت سی قابل گرفت باتوں کے باوجود اس کی شان و شوکت قائم رکھی تھی اور یورپ کے دل پر اس کی دھاک بٹھا رکھی تھی اور جو حرمین شریفین کی پاسبان و محافظ تھی۔ ۳۰ مارچ ۲۲ ۱۹ میں اس کا کمال آتاترک کے (جس کا ہندوستانی مسلمان اپنی ناواقفیت کی بنا پر عرصہ تک کلمہ پڑھتے رہے تھے) ہاتھوں بیک گردش قلم و جنبش لب خاتمہ ہوگیا۔ اگر پوچھا جائے کہ عالم اسلام کے لئے آخری صدیوں کی طویل تاریخ میں منحوس ترین دن کون تھا؟ تو ایک باخبر اور حقیقت پسند مورخ اس کے سوا کوئی جواب نہیں دے سکتا کہ ۳۰ مارچ ۱۹۲۴ کی تاریخ تھی جب ترکی کی مجلس وطنی پارلیمنٹ نے الغار خلافت کا فیصلہ کیا اور مقامات مقدسہ ہی نہیں مسلمانوں کی عزت و آبرو کا وہ مضبوط حصار ٹوٹ گیا جس کو ترکوں نے اپنی قربانیوں، خوبی طاقت اور خلافت کے مقدس نام سے تعمیر کیا تھا۔" (کاروان حیات صفحہ ۷۰ - ۷۵) یہ تاریخ کا بے حد ناقص مطالعہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ ایک شخص نے مسلمانان عالم کے سیاسی ادارہ (خلافت) کو ختم کر دیا یا ایک شخص اس کو ختم کر سکتا تھا۔ اس قسم کے واقعات وسیع تر تاریخی عوامل کے تحت ہوتے ہیں نہ کہ کسی فرد واحد کی کارروائی کے تحت۔ مذکورہ عالم اور قائد ایک بہت بڑی اسلامی درس گاہ کے ناظم ہیں۔ اگر وہ کسی دن اعلان کر دیں کہ آج سے یہ درس گاہ ختم کی جاتی ہے تو کیا وہ ختم ہو جائے گی۔۔۔ یا وہ اعلان کریں کہ اب یہ اسلامی تعلیم کی درس گاہ نہیں ہوگی بلکہ یہاں ہندو ازم اور بدھ ازم کی تعلیم دی جائے گی تو ان کے اعلان کی بنا پر کیا یہ اسلامی درس گاہ ہندو درس گاہ بن جائے گی۔ ظاہر ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ کوئی "اتاترک" خلافت اسلامی کے عالمی ادارہ کو محض اپنے فیصلے سے ختم کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت اسلامی کا ادارہ اس لئے ختم ہوا کہ تاریخی حالات نے اس کو ختم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page